پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی بلدیاتی نورا کشتی نے کراچی ڈبو دیا، ترجمان جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی کی صورت حال پر مرکزی ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی بلدیاتی نورا کشتی نے کراچی ڈبو دیا۔
ترجمان جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب اس صدی کے ناکام ترین میئر ہیں، بلدیاتی نمائندے فوٹو سیشن میں مصروف رہے اور کراچی ڈوبتا رہا، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی الزام تراشی سے اپنی کوتاہیاں نہیں چھپا سکتیں۔
اسلم غوری کا کہنا تھا کہ شہری حکومت، ٹاؤن نمائندے اور صوبائی حکومت کراچی کے عوام کی مجرم ہے، کراچی کے ندی نالوں پر تعمیرات نے پانی کا بہاؤ روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی موہنجوداڑو بن چکا ہے، پوش علاقے کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئے جبکہ عوام بے یارو مددگار ہیں، سیاسی گدھ عوام کو نوچ رہے ہیں، شفاف انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں۔
ترجمان جے یو آئی نے کارکنان کو ہدایت کی کہ جے یو آئی کارکن اور انصار الاسلام عوام کو تنہا نہ چھوڑیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترجمان جے یو آئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔