WE News:
2026-06-03@04:08:26 GMT

اسرائیل کے یمن پر فضائی حملے، 9 افراد جاں بحق، 100 سے زیادہ زخمی

اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT

اسرائیل کے یمن پر فضائی حملے، 9 افراد جاں بحق، 100 سے زیادہ زخمی

اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں فضائیہ حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 100 سے زیادہ زخمی ہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے بدھ کے روز یمن کے دارالحکومت صنعا اور صوبہ الجوف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 118 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا قطر میں حماس قیادت پر حملہ، سینیئر رہنما خلیل الحیہ شہید

اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کو نشانہ بنانے کے ایک روز پر یمن میں یہ کارروائی کی ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل نے قطر میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

یمنی وزارتِ صحت کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں کی تعداد ابتدائی ہے، خدشہ ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ حملوں میں صنعا کے التحریر محلے کی رہائشی عمارتیں، 60 فٹ روڈ پر واقع ایک طبی مرکز اور الجوف کے دارالحکومت الحزم میں سرکاری کمپاؤنڈ تباہ ہوا۔

اسرائیلی فوج نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ صنعا اور الجوف میں حوثیوں کے فوجی مراکز، عسکری پبلک ریلیشنز ہیڈکوارٹرز اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی چند روز قبل اسرائیل کے رامون ایئرپورٹ پر حوثی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان دیتے ہوئے کہاکہ ہماری کارروائی رکی نہیں بلکہ آج ہم نے دوبارہ حملہ کیا ہے۔ جو کوئی بھی اسرائیل پر حملہ کرے گا، ہم اسے کہیں بھی جا کر نشانہ بنائیں گے۔

یمنی ٹی وی المسیرہ کے مطابق فضائی حملے میں طبی سہولت اور سرکاری کمپاؤنڈ بھی تباہ ہوئے جبکہ متعدد مکانات منہدم ہوگئے۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہاکہ اسرائیلی طیاروں کو روکنے کے لیے سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے گئے جس کے بعد کئی اسرائیلی لڑاکا طیارے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی واپس جانے پر مجبور ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ ہماری فضائی دفاعی صلاحیت نے صیہونی جارحیت کا مقابلہ کیا اور زیادہ تر حملے کو ناکام بنایا۔

حوثی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ فلسطین کی حمایت ترک کر دیں، مگر انہوں نے واضح کیا کہ جب تک غزہ پر اسرائیل کا ’نسل کش حملہ‘ ختم نہیں ہوتا، یمن کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

حوثی گروپ اسرائیلی مفادات سے منسلک بحری جہازوں پر سرخ سمندر میں پابندی عائد کرچکا ہے اور اسرائیل پر براہِ راست میزائل و ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل 2023 کے اکتوبر سے جاری غزہ جنگ کے دوران اب تک لبنان، شام، عراق اور یمن میں بھی متعدد فضائی کارروائیاں کرچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کے لیے موقع ہے، کھونا نہیں چاہتے، قطر

غزہ میں 23 ماہ کے دوران اسرائیلی بمباری سے اموات کی تعداد 64 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جب کہ مغربی کنارے میں بھی ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیل اسرائیلی فضائیہ جاں بحق غزہ جنگ وی نیوز یمن پر حملے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی فضائیہ وی نیوز یمن پر حملے کے دارالحکومت کو نشانہ

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی