سیلاب متاثرین کے لیے وفاق کو فوری فلیش اپیل کرنی چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور بقا قائداعظم کے اصولوں اور وژن پر عمل کرنے میں مضمر ہے، ہمیں ایمان، اتحاد اور تنظیم کے بغیر منزل نہیں مل سکتی۔
صوبائی کابینہ کے ہمراہ مزارِ قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو حالیہ سیلاب کے تناظر میں ریسکیو اور ریلیف کے لیے فوری طور پر فلیش اپیل کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت متاثرین کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت تنقید کا نہیں بلکہ تعمیری کردار ادا کرنے کا ہے، ایسی تنقید نہ کی جائے جس سے قوم کو مزید تکلیف پہنچے۔
کراچی میں اربن فلڈنگ پر تنقید کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ بارش کے بعد بہت سارے برساتی مینڈک نکل آئے ہیں۔
انہوں نے بعض عناصر کو خبردار کیا کہ بارش اور سیلاب کے تناظر میں سیاست اور لسانی تفریق پیدا نہ کریں، جو کچھ الطاف حسین نے کیا، اس کا حشر دیکھ لیں۔
مزید پڑھیں:
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہریوں نے، اس شہر اور ملک نے بہت کچھ سہا ہے، لہٰذا لسانی بنیادوں پر سیاست نہ کریں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال میں انتظامیہ اور منتخب نمائندے سڑکوں پر موجود رہے۔ ’ہم اپنے کام سے مطمئن ہیں، اس لیے غلط افواہیں پھیلانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ریسکیو ریلیف سیلاب فلیش اپیل مراد علی شاہ وزیر اعلی سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریسکیو ریلیف سیلاب مراد علی شاہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم