ننھے یوٹیوبرز شیراز اور مسکان نے گاؤں کے خستہ حال اسکول کو جدید تعلیمی ادارے میں بدل دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
پاکستان کے مشہور ترین ننھے یوٹیوبرز محمد شیراز اور مسکان نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے گاؤں کے پرانے، خستہ حال اسکول کو جدید تعلیمی ادارے میں تبدیل کر دیا ہے۔
شیراز کے والد نے کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو کے ذریعے اسکول کی خراب حالت دکھائی تھی، جہاں بچے کھلے آسمان تلے بغیر میز اور کرسی کے سیڑھیوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے۔
اسکول کے ان طالب علموں کے پاس نہ مناسب لباس تھا، نہ جوتے، اور نہ ہی بنیادی سہولیات دستیاب تھیں اور یہ بچے موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے تعلیم کیلئے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور تھے۔
تاہم اب شیرازی فیملی نے یوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی سے گاؤں میں ایک نیا اسکول تعمیر کیا ہے، جس میں کشادہ کلاس رومز، معیاری تعلیمی سہولیات، تفریحی سہولیا اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Muhammad Shiraz (@shirazivlogs)
حال ہی میں جاری کی گئی ایک ویڈیو میں شیراز نے پیغام دیا کہ یوٹیوبرز اگر محنت اور نیک نیتی سے کام کریں تو وہ اپنی آمدنی سے معاشرے کی خدمت کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ننھے شیراز اور مسکان کے اس اقدام کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے اور ان کے والدین کو بھی خوب سراہا جارہا ہے۔ صارفین نے تبصروں میں اس خاندان کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔