کراچی میں بارش سے تھڈو ڈیم اوورفلو، ندیاں بپھر گئیں، تعلیمی ادارے بند، فوج طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں شدید بارشوں کے باعث تھڈو ڈیم اوور فلو کر گیا، جس کے بعد سیلابی پانی کا طاقتور ریلا ایم 9 موٹروے تک پہنچا تھا تاہم اب کلیئر کر دیا گیا۔
سپر ہائی وے پر واقع الحبیب ریسٹورینٹ کے اطراف سڑک زیر آب آئی، جس کی وجہ سے کراچی سے حیدرآباد اور حیدرآباد سے کراچی دونوں اطراف کی ٹریفک مکمل طور پر بند کر دی گئی۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے تصدیق کی ہے کہ پانی کی سطح بلند ہو کر موٹروے کے کنارے سے ٹکرا چکی ہے، اور سپر ہائی وے کا بڑا حصہ زیر آب آ گیا ہے۔
اس کے پیشِ نظر ایم 9 کے درمیان موجود کرش بیرئیر کو ہٹا کر پانی کے بہاؤ کا راستہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سپر ہائی کے اطراف کی متعدد رہائشیوں آبادیوں میں سیلابی ریلا داخل ہو گیا ہے اور متعدد مقامات پر 4 تا 5 فٹ پانی جمع ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کمشنر کراچی نے ریسکیو اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کر دیا ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق صورتحال کا جائزہ لے کر موٹروے کے درمیانی دیوار کو توڑ کر پانی نکالا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک بحال کی جا سکے۔
گڈاپ ٹاؤن میں واقع تھڈو ڈیم شدید بارشوں کے بعد اوور فلو ہوا جس سے نکلنے والا سیلابی ریلا سعدی ٹاؤن میں داخل ہو گیا۔
مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں سامان اور گاڑیوں کو بچانے کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے رکشا اور وین بہہ گئے، جبکہ کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔
ملیر، سہراب گوٹھ، مچھر کالونی، خمیسو جوکھیو گوٹھ اور نیو کراچی کے بعض علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو 1122 اور ایدھی فاؤنڈیشن کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پانی نکالنے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور راستے کھولنے کا کام کیا جا رہا ہے۔
ملیر، ایم نائن موٹروے، سہراب گوٹھ، خمیسو گوٹھ، لیاری ندی، ملیر ندی اور مچھر کالونی سمیت متاثرہ علاقوں میں رینجرز کے افسران اور اہلکار بھی پہنچ چکے ہیں اور ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، ایدھی فاؤنڈیشن سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
موٹروے پولیس ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ مکمل الرٹ ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مسلسل نگرانی جاری ہے اور جائے وقوعہ پر اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق ایم 9 موٹروے کانٹا اور موٹروے پولیس آفس کے سامنے واقع دونوں ٹریک کراچی اور حیدرآباد جانے والے سیلابی خطرے کے باعث بند کر دیے گئے ہیں۔
حیدرآباد سے کراچی آنے والی ٹریفک کو ماڈل روڈ جبکہ کراچی سے حیدرآباد جانے والی ٹریفک کو سبزی منڈی کٹ سے واپس شہر کی طرف موڑا جا رہا ہے تاکہ شہری محفوظ رہیں اور ٹریفک دباؤ کم ہو۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اور اگر سفر کرنا ناگزیر ہو تو متبادل راستوں کا استعمال کریں۔ شدید بارشوں کے پیش نظر مزید علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان علاقوں میں جا رہا ہے داخل ہو گیا ہے ہو گیا
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب