کراچی میں موسلادھار بارش کا سبب بنے والا مون سون کا سلسلہ بلوچستان منتقل
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی:
موسلادھار بارش کا سبب بننے والا مون سون سلسلہ ڈپریشن سے ہوا کے کم دباؤ میں تبدیل ہونے کے بعد کراچی سے بلوچستان منتقل ہو گیا، جبکہ شہر میں موسلادھار بارش کا امکان ختم ہوگیا ہے تاہم ہلکی بارش کا امکان رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کو شہر میں بیشتروقت مطلع کہیں جزوی اور کہیں مکمل ابرآلود رہا جبکہ مختلف علاقوں میں بونداباندی اور پھوار کا سلسلہ جاری رہا۔
شہرکے مختلف علاقوں ڈی ایچ اے،کلفٹن، صدر، اولڈ سٹی ایریا کے علاقوں (نشتر روڈ، گارڈن، رامسوامی، رنچھوڑ لائن، کھارادر)، ماڑی پور،کیماڑی، سرجانی ٹاؤن،گڈاپ ٹاؤن، سپرہائی وے، میٹ کمپلیکس،کراچی ائیرپورٹ، ملیر، ماڈل کالونی سمیت دیگر علاقوں میں کہیں معتدل اور کہیں ہلکی بارش ہوئی۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ چند علاقوں میں پھوار اور بونداباندی ہوئی، دن بھر موسم انتہائی خوش گواررہا جبکہ شہرکے مجموعی درجہ حرارت میں نمایاں کمی رہی۔
محکمہ موسمیات کی جانب جاری اعدادوشمار کے مطابق بدھ کو سب سے زیادہ بارش ڈی ایچ اے فیز ٹو میں 32.
اسی طرح پی اے ایف بیس مسرور19،کورنگی 17.4،کیماڑی 17،گلشن معمار16.9، سرجانی ٹاؤن13، نارتھ کراچی 12.4 ملی میٹر، اورنگی 11.8، یونیورسٹی روڈ 10، اولڈ ائیرپورٹ 9.4، پی اے ایف بیس فیصل 9، گلشن حدید 5، جناح ٹرمینل 4.4 ملی میٹربارش ہوئی۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ کراچی امیر حیدرلغاری نے کہا کہ شہر میں موسلادھار بارش کا سبب بننے والامون سون سلسلہ کراچی سے بلوچستان کی جانب منتقل ہوگیا ہے اور بلوچستان منتقلی سے قبل مون سون ڈپریشن کمزور ہو کر ہوا کےکم دباؤ میں تبدیل ہوگیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بارش کا سسٹم اس وقت مکران کوسٹ پر پسنی، اورماڑہ اور تربت پر موجود ہے، مذکورہ سسٹم بلوچستان میں بارشوں کا سبب بن سکتا ہے جبکہ کراچی میں اب مون سون سسٹم کے اثرات کے نتیجے میں جمعرات کو صرف ہلکی بارش کا امکان رہےگا۔
چیف میٹرولوجسٹ کراچی نے بتایا کہ شہر میں مون سون سسٹم کے تحت ہونے والی بارش کے سبب درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، بدھ کو شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 27.6ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 92 فیصد رہا۔
ارلی وارننگ سینٹر کی پیش گوئی کے مطابق گڈوکے مقام پر دریائے سندھ میں اگلے24گھنٹوں کے دوران انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے اور اگلے مرحلے میں سکھر میں بھی سیلابی صورت حال کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں ستمبرکے مہینے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں کمی کا سابقہ ریکارڈ نہیں ٹوٹا کیونکہ 14 ستمبر 2011کو شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26.8 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ ہوچکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موسلادھار بارش کا محکمہ موسمیات کا امکان کے مطابق سے زیادہ کہ شہر کا سبب
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔