کراچی (نیوز ڈیسک) وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور دریاؤں میں بڑھتے پانی کے پیش نظر بڑے پیمانے پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ کراچی میں بارشوں کے بعد صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے، تاہم ڈیم بھرنے اور شدید بارشوں کے باعث لیاری اور ملیر ندی میں طغیانی آئی۔ سمندر میں اونچی لہروں کے سبب بارش کے پانی کے اخراج میں تاخیر ہوئی، جس سے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں بارش کا نیا اسپیل متوقع ہے، حکومت سندھ مکمل الرٹ ہے اور مزید بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال چند گھنٹوں میں معمول پر آجائے گی۔ ان کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے بھرپور متحرک ہیں۔

سیلابی صورتحال:
وزیر اطلاعات سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4,881 افراد کو کچے کے علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ اب تک مجموعی طور پر 146,492 افراد کی محفوظ منتقلی مکمل کی جا چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 163 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سینٹرز کے ذریعے پچھلے 24 گھنٹوں میں 5,296 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر 55,336 افراد علاج و معالجے کی سہولیات حاصل کر چکے ہیں۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ 11,078 مویشیوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اب تک 400,018 مویشی منتقل ہوچکے ہیں، جبکہ 58,166 مویشیوں کو ویکسین دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 10 لاکھ 32 ہزار سے زائد مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج مکمل کیا جا چکا ہے۔

دریاؤں میں پانی کی صورتحال:
وزیر اطلاعات کے مطابق:

ٹرمو اور پنجند کے درمیان درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

پنجند اور گڈو کے درمیان انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہوا ہے۔

گڈو اور سکھر کے درمیان درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق:

ٹرمو بیراج پر پانی کی آمد و اخراج 250,005 کیوسک ہے۔

پنجند پر آمد و اخراج 475,129 کیوسک ہے۔

گڈو بیراج پر آمد 502,844 اور اخراج 492,443 کیوسک ہے۔

سکھر بیراج پر آمد 400,405 اور اخراج 382,355 کیوسک ریکارڈ ہوا۔

کوٹری بیراج پر آمد 253,145 اور اخراج 251,745 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گھنٹوں میں کے مطابق

پڑھیں:

کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے

فائل فوٹو۔

جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے