کراچی: بارش میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلیے رات بھر ریسکیو آپریشن جاری رہا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی:
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر بارش میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن رات بھر جاری رہا.
ریسکیو 1122 کی ٹیموں اور ضلع انتظامیہ نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے 350 سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا.
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق سعدی ٹاؤن میں پانی میں پھنسے 10 افراد کو ریسکیو 1122 نے پاک فوج کے ساتھ نکال لیا، صائمہ سوسائٹی کے قریب 2 مرد، 3 خواتین اور 6 بچوں کو بحفاظت منتقل کیا گیا.
نشر بستی اور عیسیٰ نگری میں پانی بھرنے سے 8 افراد پھنس گئے تھے، ریسکیو 1122 نے نشر بستی سے 4 بچوں، ایک مرد اور 3 خواتین کو نکال لیا.
سہراب گوٹھ کے قریب لاسی پاڑہ سے 15 بچوں، ایک ضعیف اور 4 خواتین کو بحفاظت نکال لیا گیا.
گلشن اقبال امتیاز سپر اسٹور کے قریب لیاری ندی میں پھنسے 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا. خمیسو جوکھیو گوٹھ ملیر ندی میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا جس کے باعث متعدد افراد کے پھنسنے پر ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی.
چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایت پر ریسکیو 1122 کی ٹیم نے فوری کارروائی کی، ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور ڈپٹی کمشنر ملیر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرتے رہے, ریسکیو 1122 نے واٹر ریسکیو وہیکلز، بوٹس اور ایمبولینس کے ذریعے آپریشن کیا.
ضلع کیماڑی میں ریونیو اور پولیس کی مدد سے بھی ریسکیو آپریشن ہوا، اسسٹنٹ کمشنر کیماڑی مدیحہ ناریجو کی قیادت میں 100 افراد محفوظ مقام پر منتقل کیے گئے.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریسکیو آپریشن میں پھنسے ریسکیو 1122 نکال لیا افراد کو
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک