کرکٹ میں انقلاب: اسمارٹ بالز کھیل کو نئی سمت دینے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کرکٹ کی دنیا ایک بڑے انقلاب کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایک جرمن ٹیکنالوجی کمپنی ایسی اسمارٹ کرکٹ بالز تیار کر رہی ہے جنہیں کھیل، کوچنگ، امپائرنگ اور براڈ کاسٹنگ کے کئی پہلو بدل دینے کا سہرا دیا جا رہا ہے۔
یہ گیندیں صرف میدان میں دوڑنے والی چمڑے کی گولائی نہیں ہوں گی بلکہ اپنی اندرونی ’ذہانت‘ کے ساتھ کھیل کی کہانی سنانے والی نئی زبان بھی ثابت ہوں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گیندیں جدید ترین سینسرز سے لیس ہوں گی جو ہر بال کی رفتار، اسپن ریٹ، سیم کا زاویہ اور مکمل 3ڈی ٹریجیکٹری کو لمحہ بہ لمحہ ریکارڈ کریں گی۔
Smart Cricket Balls are coming!
Speed, spin, seam angle & trajectory tracked in real time
Better umpiring, tamper detection & advanced analytics.
Game-changer or controversy? #ConnectedPakistan #Cricket #Innovation pic.twitter.com/JToAojl9Z7
— Connected Pakistan (@ConnectedPak) September 9, 2025
ماہرین کرکٹ کے مطابق اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوچز کھلاڑیوں کی تکنیک کا پہلے سے کہیں زیادہ باریک بینی سے جائزہ لے سکیں گے۔
شاگرد اور استاد کے درمیان ہر گیند ایک نئی کلاس بن جائے گی، جہاں معمولی فرق بھی سائنسی ڈیٹا کی صورت میں سامنے آئے گا۔
یوں نشریاتی ادارے بھی پیچھے نہیں رہیں گے، اسمارٹ بالز کی بدولت میچ کے دوران ایسے گرافکس اور اینی میشن سامنے آئیں گے جو شائقین کو میدان کے اندر لے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے سافٹ سگنل کرکٹ کا مضحکہ خیز اصول ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا
اس پیش رفت سے کرکٹ دیکھنے کا تجربہ محض تفریح نہیں رہے گا بلکہ ایک بصری اور تجزیاتی سفر بن جائے گا۔
امپائرنگ کا شعبہ بھی اس انقلاب سے مستفید ہوگا، ایل بی ڈبلیو کے پیچیدہ فیصلے، نوبال کے تنازعات، یا خطرناک شارٹ پچ اور بیمر جیسی ڈیلیوریزسب کا فیصلہ خود گیند کرے گی۔
یوں انسانی غلطیوں کی گنجائش کم اور کھیل کی شفافیت زیادہ ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل میں امپائر اب ہر بیٹسمین کے بلے کیوں چیک کررہے ہیں؟
اگر گیند کے ساتھ کسی قسم کی ٹیمپرنگ ہو تو سینسرز لمحوں میں اس کا سراغ لگا لیں گے، جبکہ گیند کی عمر اور معیار پر بھی نظر رکھی جائے گی۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 2023 کے ورلڈ کپ کے دوران پاکستانی کرکٹر حسن رضا نے دعویٰ کیا تھا کہ گیندوں میں چپ نصب کر کے مخصوص بولرز کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
اس وقت یہ بات قیاس آرائی سمجھی گئی، مگر اب یہ حقیقت بنتی دکھائی دیتی ہے کہ گیند کے اندر ٹیکنالوجی سمونا کوئی افسانہ نہیں رہا بلکہ مستقبل کی حقیقت ہے۔
مزید پڑھیں: میچ کے دوران کوچ کا کپتان سے براہ راست رابطہ ہونا چاہیے، اظہر محمود
یہ پیش رفت جہاں کھیل کو زیادہ جدید اور منصفانہ بنائے گی، وہیں روایتی کرکٹ کے چاہنے والوں کے لیے سوالات بھی اٹھائے گی۔
کیا کھیل کا حسن اسی میں ہے کہ ہر فیصلہ ٹیکنالوجی کرے؟ یا وہ انسانی عنصر جس نے کرکٹ کو جذبات اور بحث و مباحثے سے بھرپور بنایا، کہیں کم نہ ہو جائے؟
جو بھی ہو، اتنا طے ہے کہ کرکٹ ایک نئے دور میں داخل ہونے کو ہے۔ ایک ایسا دور، جہاں ہر گیند اپنی کہانی خود سنائے گی۔
ہر ڈیلیوری قابلِ پیمائش ہوگی اور کھیل پہلے سے کہیں زیادہ درست، شفاف اور دلچسپ انداز میں دنیا کے سامنے آئے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بال پاکستانی کرکٹر ٹیکنالوجی جرمن ٹیکنالوجی کمپنی حسن رضا کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بال پاکستانی کرکٹر ٹیکنالوجی جرمن ٹیکنالوجی کمپنی کرکٹ
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔