پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا منشیات کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے منشیات کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر اتفاق کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے متحدہ عرب امارات کی نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کے چیئرمین شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان نے ملاقات کی۔ وزارت داخلہ آمد پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے مہمان ک ا خیرمقدم کیا۔
اہم ملاقات میں انسداد منشیات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان اور یو اے ای کے درمیان انسداد منشیات کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ انسداد منشیات کے لیے تعاون بڑھانے کی غرض سے پاکستان کی جانب سے ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عبدالمعید اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بریگیڈئر طاہر غریب نمائندہ خصوصی مقرر کردیے گئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے متحدہ عرب امارات میں نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کے قیام کو سراہا۔ انہوں نے شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان کو نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کا پہلا چیئرمین بننے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کے قیام سے دونوں ممالک کے مابین انسداد منشیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ ملے گا۔
اسلام آباد ۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے متحدہ عرب امارات کی نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کے چیئرمین شیخ زید بن حماد بن حمدان النیہان کی ملاقات
وزارت داخلہ آمد پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے شیخ زید بن حماد بن حمدان النیہان کا خیرمقدم کیا pic.
وزیر داخلہ نے شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان کو انسداد منشیات میں اشتراک کار کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان منشیات کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ مکروہ کاروبار سے منسلک عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں منشیات اسمگل کرنے میں ملوث 400 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور 5 ٹن منشیات پکڑی ہے۔ یہ کامیابی مشترکہ کاوشوں اور معلومات کے بروقت تبادلے سے ہی ممکن ہوئی ہے۔ کچھ عرصہ سنتھیٹک ڈرگز کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا، ہے، جس میں ملوث مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کے جنگ ہماری نسلوں کی جنگ ہے اور اس میں ہار کوئی آپشن نہیں۔
شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد منشیات کے ضمن میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انسداد منشیات کے حوالے سے باہمی تعاون کو مضبوط تر بنانا ہے تاکہ ہم آئندہ نسوں کو بہتر مستقبل فراہم کر سکیں۔
اماراتی وفد میں بریگیڈئر طاہر غریب، ڈائریکٹر ابوظبی محکمہ انسدادِ منشیات ۔ بریگیڈیئر عمر خلفان، ڈائریکٹر آپریشنز ڈیپارٹمنٹ فیڈرل اینٹی نارکوٹکس، بریگیڈئر خالد علی، ڈائریکٹر جنرل دبئی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی نارکوٹکس، بریگیڈئر ابراہیم جاسم، ڈائریکٹر راس الخیمہ محکمہ انسدادِ منشیات، بریگیڈئر ماجد سلطان، ڈائریکٹر شارجہ ڈیپارٹمنٹ آف پریوینشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس۔ کرنل محمد ماجد، ڈائریکٹر عجمان محکمہ انسدادِ منشیات۔ کرنل خالد راشد، ڈائریکٹر فجیرہ محکمہ انسدادِ منشیات، لیفٹیننٹ کرنل جمال سعید، ام القوین انسدادِ منشیات پولیس،لیفٹیننٹ کرنل سعید محمد، ڈائریکٹر ابوظہبی محکمہ انسدادِ منشیات، میجر محمد سلطان، محکمہ انسدادِ منشیات اور کیپٹن سالم خمیس، اسسٹنٹ ایکسپرٹ کریمنل ایویڈنس شامل تھے ۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹریز داخلہ، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس اور سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان وزیر داخلہ محسن نقوی متحدہ عرب امارات کی انسداد منشیات منشیات کے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔