بھارتی سپریم کورٹ نے پاک بھارت میچ پر پابندی کی درخواست مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
نئی دہلی(اسپورٹس ڈیسک) ایشیا کپ 2025 کے شیڈول کے اعلان کے بعد سے بھارتی شدت پسند حلقوں کی جانب سے پاک بھارت میچ کی مخالفت میں شدت آ گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مخالفت کا سلسلہ اس حد تک بڑھ گیا کہ گزشتہ روز بھارتی سپریم کورٹ میں میچ پر پابندی کی درخواست دائر کر دی گئی۔ تاہم جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت سے ہی انکار کر دیا۔
بینچ نے مختصر ریمارکس دیے کہ یہ صرف ایک میچ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 14 ستمبر کو دبئی میں شیڈول ہے۔ دونوں ٹیموں کے دوسرے راؤنڈ میں پہنچنے کی صورت میں ایک اور مقابلہ جبکہ فائنل تک رسائی کی صورت میں تیسرا ٹاکرا بھی متوقع ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔