چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا پاک سیکریٹریٹ میں نئی تعمیر شدہ پارکنگ ایریا کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا پاک سیکریٹریٹ میں نئی تعمیر شدہ پارکنگ ایریا کا دورہ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے جمعرات کے روز پاک سیکریٹریٹ میں نئی تعمیر شدہ پارکنگ ایریا کا دورہ کیا۔ اس منصوبے کا مقصد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اہم ترین سرکاری دفاتر میں ملازمین اور وزیٹرز کو درپیش طویل المدتی پارکنگ مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہے۔
اس موقع پر ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود ، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن سمیت متعلقہ افسران بھی چیئرمین سی ڈی اے کے ہمراہ تھے۔بریفننگ دیتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کو بتایا گیا کہ یہ پارکنگ ایریا تقریبا 133,729 مربع فٹ رقبے پر محیط ہے اور اسمیں ایک ہزار سے زائد گاڑیاں کھڑی کرنے کی گنجائش ہوگی۔ چیئرمین سی ڈی اے کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل سے پاک سیکریٹریٹ کے ملازمین کے ساتھ ساتھ قریبی دفاتر کے شہریوں اور وزیٹرز کو بھی سہولت میسر آئے گی۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ یہ منصوبہ سی ڈی اے کی جانب سے شہری سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسلام آباد کو ایک بہتر، منظم اور شہری دوست دارالحکومت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارکنگ جیسے بنیادی مسائل کا حل نہ صرف ٹریفک کے دبا کو کم کرے گا بلکہ شہریوں کے وقت اور توانائی کی بچت کو بھی یقینی بنائے گا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے انجینئرنگ وِنگ اور منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ایسے منصوبے سرکاری ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے انتہائی اہم ہیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ گاڑیوں کو صرف مختص شدہ جگہوں اور شیڈز میں کھڑا کیا جائے تاکہ پارکنگ کا نظام منظم رہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی رہنمائی کیلئے سائن بورڈز نمایاں مقامات پر نصب کیا جائے معیاری تاکہ ہر شہری کو آسانی سے رہنمائی مل سکے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ پاک سیکرٹریٹ میں واقع جامع مسجد سے ملحقہ موجودہ پارکنگ کو مزید بہتر اور وسیع کیا جائے اور اسے فوری طور پر فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامع مسجد کے قریب نئی پارکنگ سہولت قائم کی جائے تاکہ سیکریٹریٹ اور قریبی دفاتر کے پارکنگ مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ پارکنگ ایریا میں سکیورٹی، روشنی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ شہری محفوظ اور پر سکون ماحول میں پارکنگ کی سہولت سے استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ مستقبل میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں بھی پارکنگ کے جدید منصوبے شروع کئے جائیں گے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دبا وکو موثر انداز میں سنبھالا جاسکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی جارحیت کو فوری روکا جائے، امت مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، وزیراعظم کی امیر قطر سے ملاقات میں گفتگو اسرائیلی جارحیت کو فوری روکا جائے، امت مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، وزیراعظم کی امیر قطر سے ملاقات میں گفتگو سی ڈی اے انتظامیہ ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، چوہدری محمد یسین سی ڈی اے کی جانب سے نالوں اور آبی گزر گاہوں پر پلاٹ الاٹ کرنے کا انکشاف اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی اور اہلیت کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر صدر مملکت آصف علی زرداری 12ستمبر سے چین کا 10روزہ دورہ کرینگے سی ڈی اے کا سواں گارڈن ہاؤسنگ اسکیم کو شوکاز نوٹس جاری،تفصیلات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے پاک سیکریٹریٹ پارکنگ ایریا
پڑھیں:
ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر حیران ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی اور مغربی حکام کے حوالے سے، نیز سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے اپنے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصے میں دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے بعض اسرائیلی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو میں پہاڑوں کے اندر قائم میزائل اڈے، پل، بندرگاہیں اور صنعتی پیداواری تنصیبات شامل ہیں، اور اس کام کی رفتار اسرائیلی حکام کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فضائی مہم کے باوجود، جس میں جنگ کے عروج پر 20 ہزار سے زائد حملے کیے گئے اور اب بھی ایران کے ساحلی علاقوں میں جاری ہے، اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور بحال کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔
اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کنگاور کے قریب مارچ میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایک میزائل اڈے کی دو سرنگوں کے داخلی راستے اور وہاں جانے والی سڑک تباہ کر دی گئی تھی، تاہم چند ہی ہفتوں بعد نئی تصاویر میں اس مقام پر نئی پختہ سڑک اور تازہ کھودی گئی سرنگوں کے داخلی راستے دکھائی دیے۔رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور انہیں اپنے حملوں کی مؤثریت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے اوائل کی سیٹلائٹ تصاویر سے بندر انزلی میں واقع ایک جہاز سازی کے کارخانے کے بعض حصوں کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل اس تنصیب کو آئی آر جی سی سے منسلک قرار دیتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں اس کمپلیکس، بندرگاہی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور دیگر اہداف کو اس مقصد سے نشانہ بنایا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان سازوسامان کی ترسیل کے راستے کو منقطع کیا جا سکے۔ اسرائیل کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سابق کمانڈر ران کوخاو نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا: "انہوں نے اپنے اسلحہ خانے دوبارہ بھر لیے ہیں۔ ایران کے پاس صنعتی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔" وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اب بھی ایک مہنگے اور وقت طلب عمل کا سامنا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار بحالی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی صلاحیتوں کو فیصلہ کن اور تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے اپنے ممالک میں ان اہداف کے حصول میں ناکامی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا شامل تھا۔