پختونخوا کی وفاق سے الگ پالیسی اور سابقہ حکومت میں مذاکرات نے دہشتگردوں کو حوصلہ دیا، دی ڈپلومیٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
پختونخوا کی وفاق سے الگ پالیسی اور سابقہ حکومت میں مذاکرات نے دہشتگردوں کو حوصلہ دیا، دی ڈپلومیٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)دہشتگردی کے خلاف کامیابی اور مثر حکمتِ عملی کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہوتی ہے، انسداد دہشت گردی میں کامیابی کا انحصار تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد میں مضمر ہے۔عالمی جریدے نے خیبر پختونخوا حکومت کی وفاق سے مختلف پالیسی کو دہشتگردی کے خاتمے میں بڑا چیلنج قرار دے دیا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق افواج پاکستان نے آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے کامیاب فوجی آپریشنز کیے لیکن گزشتہ دور حکومت میں فتن الخوارج سے مذاکرات اور واپسی کی غلط پالیسی نے دہشتگردوں کو حوصلہ دیا۔ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کے خلاف کوششیں سیاسی اختلافات سے متاثر ہو رہی ہیں۔عالمی جریدے کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت وفاقی پالیسیوں سے ہٹ کر الگ راستہ اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کی متضاد حکمت عملی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خیبر پختونخوا حکومت اب بھی مذاکرات اور محدود کارروائیوں پر زور دے رہی ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغان حکومت نے سیکڑوں فتن الخوارج کے حمایت یافتہ افراد کو حکومتی ڈھانچے میں شامل کیا جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فتن الخوارج کے خاتمے کے لیے افغان حکومت کے اقدامات کو غیر سنجیدہ قرار دیا۔غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی پر بھی وفاق اور خیبر پختونخوا میں اختلافات ہیں۔ وفاق کا موقف ہے کہ غیر قانونی مہاجرین دہشگردوں کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق دہشتگرد بدامنی اور سیاسی اختلافات سے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں، وفاق کی ہدایات کو نظر انداز کرنا خیبر پختونخوا کو شدت پسند لہر سے نہیں بچا سکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعراقی ایئرفورس کے کمانڈر کی ایئر چیف مارشل سے ملاقات، مشترکہ مشقیں اور تربیتی اقدامات پر اتفاق عراقی ایئرفورس کے کمانڈر کی ایئر چیف مارشل سے ملاقات، مشترکہ مشقیں اور تربیتی اقدامات پر اتفاق پاکستان اور یو اے ای کا منشیات کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر اتفاق ممبر ایڈمن سی ڈی اے طلعت محمود کی زیر صدارت اجلاس ،اسلام آباد شہر میں کیش لیس اکانومی کے فروغ کیلئے اقدامات کا جائزہ سپریم کورٹ 26ویں ترمیم کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے جلد مقرر کرے، بیرسٹر گوہر کا مطالبہ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا پاک سیکریٹریٹ میں نئی تعمیر شدہ پارکنگ ایریا کا دورہ اسرائیلی جارحیت کو فوری روکا جائے، امت مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، وزیراعظم کی امیر قطر سے ملاقات میں گفتگوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا حکومت دی ڈپلومیٹ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔