اگست 2025، گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ، سالانہ 62 فیصد اور ماہانہ 28 فیصد بہتری
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اگست 2025 میں پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت نے نمایاں بہتری دکھائی، جہاں سالانہ بنیاد پر 62 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اگست کے مہینے میں 14 ہزار 50 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جب کہ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی دو ماہ (جولائی اور اگست) میں مجموعی طور پر 25 ہزار 93 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹرکوں کی فروخت میں سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو اگست میں 139 فیصد اضافے کے ساتھ 596 یونٹس تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب ٹریکٹرز کی فروخت میں نمایاں کمی ہوئی، جو اگست میں 63 فیصد کمی کے بعد صرف 996 یونٹس تک محدود رہی۔
یہ اضافہ نہ صرف آٹو انڈسٹری کی بحالی کا اشارہ ہے بلکہ صارفین کے اعتماد میں بھی بہتری کی علامت ہے۔ ماہرین کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں اس نمایاں اضافے کی وجوہات میں معاشی سرگرمیوں کی بہتری، شرح سود میں کمی، اور مارکیٹ میں نئے ماڈلز کی دستیابی شامل ہو سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی فروخت میں
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔