غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری جاری، ایک دن میں 41 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری جاری ہے اور تازہ حملوں میں مزید 41 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صیہونی فوج کی جانب سے غزہ کے بےگھر فلسطینیوں کے اسکولوں، اسپتالوں، کیمپوں، خیموں اور خوراک تقسیم کرنے والے مرکز پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت کم از کم 41 فلسطینی شہید اور 184 زخمی ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں خوراک کی تلاش میں نکلنے والے نہتے شہریوں پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں خوراک کے حصول کے لیے باہر نکلنے والے مزید 12 فلسطینی شہید اور 30 زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 184 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1 بچے سمیت مزید 5 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، اس طرح شدید غذائی بحران کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 404 تک جا پہنچی ہے، جن میں 141 بچے شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق غزہ میں قحط کے باضابطہ اعلان کے بعد اب تک 115 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 25 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعلان اقوام متحدہ کے تعاون سے قائم بھوک پر نظر رکھنے والے نظام انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے گزشتہ ماہ کیا تھا۔
غزہ کی حکومت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 20 ہزار سے زیادہ بچے شہید ہو چکے ہیں، شہید ہونے والوں میں کم از کم ایک ہزار بچے ایسے تھے جن کی عمر ایک سال بھی نہیں تھی۔ ان میں تقریباً آدھے وہ نومولود بچے تھے جو حالیہ جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور اسرائیلی فوج کے حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ 27 مئی سے اب تک انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 2,456 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 17,861 سے تجاوز کر گئی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 12,098 سے تجاوز کر گئی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 51,462 سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 22 ماہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 662 فلسطینی کھلاڑی اور اسپورٹس عہدے دار شہید ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی فوج نے 22 ماہ سے جاری جنگ میں 248 فلسطینی صحافی شہید کیا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 64 ہزار 656 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔
حکومتی میڈیا دفتر کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے صیہونی فوج کی بمباری میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 83,740 سے تجاوز کر چکی ہے، ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔
غزہ وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد 163,503 تک پہنچ گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کی مجموعی تعداد اسرائیلی حملوں اسرائیلی فوج فلسطینی شہید کے نتیجے میں سے تجاوز کر حملوں میں کے مطابق کے دوران شہید ہو گئی ہے فوج کی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔