اسرائیلی فضائی حملے: یمن میں 35 شہید، 130 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
صنعا: (نیوز ڈیسک) اسرائیلی فضائی حملوں میں یمن کے دارالحکومت صنعا اور الجوف گورنریٹ میں کم از کم 35 افراد جاں بحق اور 130 زخمی ہوگئے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی افواج نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جن میں ایک طبی مرکز بھی شامل ہے۔ یمنی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر متاثرین عام شہری ہیں۔
یہ حملے ایک روز بعد کیے گئے جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیلی فوج نے کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اہداف حوثی حکومت سے تعلق رکھنے والے فوجی مراکز تھے، تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان پر غزہ کی حمایت ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے لیکن وہ جنگ کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسرائیلی فضائی حملے میں یمن کے وزیراعظم احمد الرحوی شہید ہوگئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران فلسطین، لبنان، شام، تیونس، قطر اور یمن سمیت چھ ممالک پر حملے کیے ہیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔