ایشیا کپ 2025: پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کی فروخت سست روی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ٹی 20 ایشیا کپ 2025 کے سب سے بڑے اور روایتی حریفوں بھارت اور پاکستانکے مابین ہونے والے اہم مقابلے کے لیے ٹکٹوں کی فروخت توقعات سے کہیں کم رہی ہے۔ یہ میچ 14 ستمبر کو دبئی میں ہونا ہے، لیکن میچ سے صرف 3 دن قبل بھی اس کے لیے ٹکٹوں کی فروخت میں خاصی سست روی دیکھی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ایشیا کپ: پاک بھارت میچ منسوخ کرنے کے لیے انڈین سپریم کورٹ میں درخواست دائر
بھارتی میڈیا کے مطابق منتظمین نے اس بار ایک سادہ اور آسان سنگل-ٹکٹ فارمیٹ متعارف کروایا تاکہ شائقین کو ٹکٹ حاصل کرنے میں سہولت ہو، لیکن اس کے باوجود مانگ میں وہ تیزی نہیں آئی جو عام طور پر پاک بھارت مقابلوں میں دیکھی جاتی ہے۔
ماضی میں ایسے میچز کے ٹکٹ چند منٹوں میں فروخت ہوجاتے تھے، جبکہ اس بار کئی نشستیں اب تک خالی ہیں۔
امارات کرکٹ بورڈ کے ایک اہلکار کہا کہنا ہے کہ اس بار شائقین کا ردعمل توقعات کے برعکس رہا۔ ان کا کہنا تھا ‘بھارت بمقابلہ پاکستان میچ کے لیے ٹکٹوں کی فروخت بہت کم ہے،اب تک صرف نچلے درجے کی نشستوں کی ٹکٹس فروخت ہوئی ہیں، جبکہ بالائی اور اعلیٰ درجے کی نشستیں تاحال دستیاب ہیں۔’
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ: پاک بھارت میچ سے قبل اشتہاری نرخوں میں بے پناہ اضافہ
انہوں نے کہا کہ پچھلی بار چیمپیئنز ٹرافی میں ٹکٹ صرف 4 منٹ میں ختم ہوگئے تھے، لیکن اس بار جوش ہی نظر نہیں آرہا۔ اس کی ایک بڑی وجہ روہت شرما اور ویرات کوہلی کی غیر موجودگی ہوسکتی ہے۔
????:????????????
????BABAR AZAM 'S SPIRALLING IMPACT
-Tickets in the Asia Cup between Pakistan & India are still unsolved.
-Pakistanis are not buying tickets: Indians are now against Media hype ???? pic.twitter.com/4Hybm7H2Ir
— ????????????❥???????????????????? ???????????????? ???????????????????????? (@Bobi_1A) September 7, 2025
واضح رہے کہ روہت شرما اور ویرات کوہلی نے پچھلے سال بھارت کی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اس فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا،ان دونوں سپر اسٹارز کی عدم موجودگی نے مداحوں کی دلچسپی کو متاثر کیا ہے۔
???? INDIA Vs PAKISTAN TICKETS STILL NOT SOLD OUT ????
– The tickets of India Vs Pakistan Match in this Asia Cup still not sold out. (TOI). pic.twitter.com/qsX3WTfBac
— Tanuj (@ImTanujSingh) September 10, 2025
دوسری جانب، سوشل میڈیا پر شائقین نے منتظمین سے شکایات کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ میچ کے قریب مزید سنگل میچ ٹکٹ جاری کیے جائیں۔ بعض صارفین نے مہنگے ٹکٹ پیکیجز پر بھی تنقید کی ہے، جن کی قیمت 2 ٹکٹوں کے لیے 8 ہزار 300 درہم تک جاپہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپیئنز ٹرافی: پاک بھارت میچ انڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا میچ قرار
اگرچہ ٹکٹوں کی فروخت میں مایوسی نظر آتی ہے، لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان تاریخی کرکٹ دشمنی اور نوجوان کھلاڑیوں کی آمد سے میچ کے حوالے سے تجسس اور جوش اب بھی باقی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی سی سی بھارت پاکستان ٹکٹس ٹی 20 ایشیا کپ یو اے ای
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان ٹکٹس ٹی 20 ایشیا کپ یو اے ای ٹکٹوں کی فروخت پاک بھارت میچ ایشیا کپ کے لیے میچ کے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔