کراچی: تین ہٹی کے قریب لیاری ندی میں ایک شخص کے گرکرہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
تین ہٹی کے قریب لیاری ندی میں ایک شخص کے گرکرہلاک ہوگیا۔لیاری ندی میں گرنے والی شخص کی تلاش میں کیے جانے والے ریسکیو آپریشن کےدوران ایک اورشخص کی کئی روز پرانی لاش بھی لیاری ندی سے نکالی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سپرمارکیٹ تھانے کے علاقے تین ہٹی کے قریب لیاری ندی میں ایک شخص کے گرنے کی اطلاع پرپولیس موقع پرپہنچ گئی اورپولیس نے فوری ریسکیو 1122 کے عملے کوطلب کرلیا۔
ریسکیو 1122 کے عملے نے لیاری ندی میں گرنے والے شخص کی تلاش میں ریسکیوآپریشن شروع کردیا اورآپریشن کے دوران ریسکیو 1122 کے عملے نے پاک کالونی یکسرلائن کے قریب سے گرنے والے شخص کوتشویشناک حالت میں نکال لیا۔ تاہم، وہ دم توڑ گیا۔
ایس ایچ او سپر مارکیٹ فرخ ہاشمی کے مطابق ہلاک ہونےوالے شخص کی شناخت 55 سے 60 سالہ دھرما کے نام سے کی گئی ہے ہلاک ہونے والا شخص ان کے تھانے کی حدود میں گرا ضرور تھا لیکن لاش پاک کالونی تھانے کی حدود یکسرپل کے قریب لیاری ندی سے ملی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متوفی لیاری ندی میں واقع جھونپڑوں میں رہائش پذیرتھا۔ہلاک شخص کے بیٹے کا کہنا تھا کہ اس کا والد نشے کا عادی تھا۔
پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش ورثا کے حوالے کردی۔
دوسری جانب ترجمان ریسکیو 1122 کا کہنا لیاری ندی میں گرنے والے شخص کی تلاش کے دوران لیاری ندی میں گرنے والے شخص کے علاوہ ایک اورنامعلوم شخص کی بھی کئی روزپرانی لاش ملی ہے جس کے پیروں کے گردرسی لپٹی ہوئی تھی ۔
ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے لاش کو نکالنے کے بعد ایدھی رضا کاروں کے سپرد کردی۔جنہوں نے لاش کو قانونی کارروائی کرنے کے لیے اسپتال منتقل کردیا۔
ایس ایچ اوفرخ ہاشمی نے بتایا کہ انہیں لیاری ندی سے دوسری لاش ملنے کے حوالے سے کوئی علم نہیں ہے۔
ایس ایچ او پاک کالونی انورعلی کا کہنا تھا کہ پاک کالونی تھانے کی حدود سے کوئی لاش نہیں ملی جو بھی لاشیں ملی ہو گی وہ ضلع سینٹرل کا ہی تھانہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیاری ندی میں گرنے کے قریب لیاری ندی گرنے والے شخص ریسکیو 1122 کے پاک کالونی شخص کی شخص کے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔