WE News:
2026-06-03@07:25:39 GMT

کھیل سے جنگ تک: ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی رقابت کا نیا باب

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

 

 

بھارت کے نیرج چوپڑا اور پاکستان کے ارشد ندیم اگلے ہفتے ٹوکیو میں جیولن تھرو کے  سونے کے تمغے کے لیے آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ مقابلہ اس برادرانہ رقابت کا تازہ باب ہے جو دونوں ایتھلیٹس کے آبائی ملکوں کے درمیان ایک خونی فوجی تصادم کے بعد کشیدہ ہو چکا ہے۔

ٹوکیو اولمپکس کے چیمپیئن نیرج چوپڑا اور پیرس میں ان کے جانشین ارشد ندیم، ایتھلیٹکس ورلڈ چیمپیئن شپ میں پہلی بار ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

یہ اس وقت کے بعد کا پہلا ٹاکرا ہے جب مئی میں دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان 4 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، جو 1999 کے بعد سب سے سنگین تصادم تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا ایک سال بعد پھر آمنے سامنے، 2 بڑے مقابلے شیڈول

گزشتہ برس جب ندیم نے اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتا اور چوپڑا سلور پر اکتفا کر گئے تو دونوں کے تعلقات کی دوستانہ جھلک سامنے آئی تھی۔

ندیم کی والدہ رضیہ پروین نے کہا تھا کہ جیتنا اور ہارنا کھیل کا حصہ ہے، مگر یہ دونوں بھائیوں جیسے ہیں۔

چوپڑا کی والدہ سروج نے بھی کہا تھا کہ انہیں کچھ سکون ملا کہ اگر ان کا بیٹا ہارا تو جیتنے والا بھی ’ہمارا ہی بچہ‘ ہے۔

مزید پڑھیں: بڑی جیت: اولمپیئن ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

مگر مئی کے فوجی تصادم کے بعد دونوں جانب کے کھلاڑیوں اور نمایاں شخصیات پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ ایک دوسرے سے فاصلہ اختیار کریں۔

ٹوکیو میں اپنا عالمی اعزاز کا دفاع کرنے کے تیار، 27 سالہ نیرج چوپڑا کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی بہت قریبی دوست نہیں تھے۔

دوسری جانب 28 سالہ ارشد ندیم نے بھی تعلق کو کم اہمیت دی۔ ’جب وہ جیتا تو میں نے مبارکباد دی، اور جب میں نے گولڈ جیتا تو اس نے بھی ایسا ہی کیا، یہ ریسلنگ کی طرح ہے، ایک جیتتا ہے اور دوسرا ہارتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: ارشد ندیم نے ایک اور گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا، پرانے اعلان کردہ انعامات سے تاحال محروم

ارشد ندیم جولائی میں پنڈلی کی سرجری کے بعد واپسی کر رہے ہیں، وہ ایک کسان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور پیرس اولمپکس میں 92.

97 میٹر کا ریکارڈ تھرو کر کے پاکستان کو 40 برس بعد پہلا سونے کا تمغہ دلا کر راتوں رات ہیرو بن گئے تھے۔

انہوں نے پیرس کے بعد صرف ایک بار مقابلہ کیا ہے، مئی میں جنوبی کوریا میں ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ جیت کر، جس میں چوپڑا شریک نہیں تھے۔ آخری بار دونوں کا مقابلہ پیرس اولمپکس میں ہوا تھا۔

اپریل میں نیرج چوپڑا نے ارشد ندیم کو اپنے بھارت میں ہونے والے ’نیرج چوپڑا کلاسک‘ میں شرکت کی دعوت دی تھی، مگر ندیم نے تربیتی مصروفیات کے باعث معذرت کر لی تھی۔

مزید پڑھیں: گولڈ میڈل جیتنے پر سعودی سفیر کی ارشد ندیم کو مبارکباد

بعد ازاں اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے ایک حملے میں 26 ہندو سیاح مارے گئے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا اور پھر کشیدگی کے بعد 70 سے زائد افراد دونوں طرف میزائل، ڈرون اور گولہ باری میں جاں بحق ہوئے۔

اس کے بعد نیرج چوپڑا نے اپنی دعوت واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کبھی قریبی دوست نہیں تھے اور موجودہ حالات میں تعلقات پہلے جیسے نہیں رہ سکتے۔ ’مگر جو بھی مجھ سے احترام سے بات کرے گا، میں جواب میں عزت دوں گا۔‘

نیرج چوپڑا ٹوکیواولمپکس کے بعد بھارت کے قومی ہیرو بن چکے ہیں، ان کی دلکش مسکراہٹ اور بدلتے ہیئر اسٹائل نے انہیں کروڑوں روپے کے اشتہاری معاہدے دلوائے۔ انہوں نے 2023 میں بداپیسٹ میں عالمی ٹائیٹل جیتا اور 2025 سیزن کے آغاز پر چیک جیولن لیجنڈ یان زیلزنی کی کوچنگ ٹیم جوائن کی۔

مزید پڑھیں: اولمپیئن ارشد ندیم نے انعامات کی حقیقت بتا دی

مئی میں دوحہ ڈائمنڈ لیگ میں انہوں نے پہلی بار 90 میٹر سے زیادہ تھرو کیا، مگر جرمن حریف جولیان ویبر نے انہیں پیچھے چھوڑدیا، زیورخ ڈائمنڈ لیگ میں بھی ویبر 91.51 میٹر کے ساتھ اول رہے جبکہ چوپڑا 85.01 میٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئے۔

ٹوکیو ورلڈ چیمپیئن شپ میں ویبر کے علاوہ 2 بار کے عالمی چیمپیئن اینڈرسن پیٹرز بھی موجود ہوں گے، مردوں کے جیولن تھرو کا فائنل 18 ستمبر کو ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ارشد ندیم ایتھلیٹس ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ پیرس ٹوکیو جیولن تھرو سنگین تصادم گولڈ نیرج چوپڑا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایتھلیٹس ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ پیرس ٹوکیو جیولن تھرو سنگین تصادم گولڈ نیرج چوپڑا

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی

نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت  مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔

ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین