کراچی:

سندھ ہائیکورٹ نے سی ای او کے الیکٹرک کی صوبائی محتسب کے خلاف درخواست پر گورنر سندھ کو مقررہ مدت میں مونس علوی کی اپیل پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

صوبائی محتسب کی جانب سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو ہراسانی کے الزام میں معطل کرنے کے عبوری حکم نامے میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی۔

ہائیکورٹ میں صوبائی محتسب کی جانب سی ای او کے الیکٹرک کو ہراسانی کے الزام میں عہدے سے ہٹانے کے خلاف مونس علوی کی فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے گورنر سندھ کو مقررہ مدت میں اپیل پر فیصلہ کرنے کے احکامات کی تجویز دیدی۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ صوبائی محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر گورنر کو اپیل پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیتے ہیں۔

وکیل شکایت کنندہ نے عدالتی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور مؤقف دیا کہ سی ای او کے الیکٹرک کی ہائی کورٹ میں درخواست قابل سماعت نہیں۔ آرٹیکل 199 واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی اور فورم کی غیر موجودگی میں ہائیکورٹ درخواست سن سکتی ہے، سی ای او کے الیکٹرک کی اپیل گورنر سندھ کے روبرو زیر التوا ہے۔

شکایت کنندہ کے وکیل نے کہا کہ سی ای او کے الیکٹرک کی جانب سے بیک وقت دو فورمز پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اگر سی ای او کے الیکٹرک ہائیکورٹ میں اپیل چلانا چاہتے ہیں تو گورنر سندھ کے روبرو اپیل واپس لیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلے موجود ہیں جہاں ہائیکورٹ نے ماتحت فورم کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔ گورنر سندھ کے روبرو اپیل کی سماعت کے دوران بھی شکایت کنندہ کی جانب سے کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ عدالت گورنر سندھ کو مقررہ مدت میں اپیل پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ قوانین کے مطابق گورنر نے اپیل پر نوے روز میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، کے الیکٹرک بین الصوبائی ادارہ ہے اور صوبائی محتسب کو کے الیکٹرک کیخلاف کارروائی کا اختیار ہی نہیں ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر فریقین عدالتی تجویز سے اتفاق نہیں کرتے تو عدالت فریقین کے دلائل سن کر دائرہ اختیار کا تعین کرے گی۔

عدالت نے صوبائی محتسب کے فیصلے کو معطل کرنے کے عبوری حکم نامے میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سی ای او کے الیکٹرک کی اپیل پر فیصلہ کرنے کو مقررہ مدت میں گورنر سندھ کی جانب کا حکم

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا