بلوچستان کے عدالتی نظام میں اہم تبدیلی، اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹرائلز ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
بلوچستان اسمبلی نے انسداد دہشتگردی اور فرانزک سائنس کا ترمیمی مسودہ قانون منظور کر لیا۔ بدھ کو ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ترمیمی بل پارلیمانی سیکرٹری زرین خان مگسی نے ایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے قانون کی ضرورت کیا تھی اور اس کے اہم نکات کیا ہیں؟
نیا قانون اور اس کی تفصیلاتیہ قانون انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں نئی دفعہ 21AAA شامل کر کے بنایا گیا ہے جسے بعض مقدمات کی سماعت سے متعلق خصوصی احکام کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس دفعہ کو دیگر تمام نافذ قوانین پر بالادستی حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے انسانی حقوق کی آڑ میں دہشت گردوں کے بیانیے کو فروغ نہیں دیا جا سکتا، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
صوبائی حکومت گریڈ 21 یا مساوی افسر پر مشتمل ایک اتھارٹی قائم کرے گی، جو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے متقاضی مقدمات کا انتخاب کرے گی۔ یہ اتھارٹی مقدمات مخصوص ججوں کو تفویض کرنے اور حکومت بلوچستان کے ساتھ رابطے کی ذمہ دار ہوگی۔اتھارٹی کے افسر کا نام، تقرری اور کوائف خفیہ رکھے جائیں گے اور یہ معلومات صرف چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تک محدود ہوں گی۔
اگر کسی مقدمے میں ججوں، وکلا یا گواہوں کو غیر معمولی تحفظ درکار ہو تو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ 3 ججوں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیں گے، جن میں سے ایک کو اتھارٹی مقدمہ سننے کے لیے نامزد کرے گی۔ اسی طرح 5 سرکاری وکلا پر مشتمل پینل بنایا جائے گا جن میں سے ایک کو مقدمے کی پیروی کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے انسداد دہشتگردی کا قانون بے گناہوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگا، میر سرفراز بگٹی
ججوں، وکلا اور گواہوں کی اصل شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا اور ریکارڈ میں صرف سرکاری عہدے یا علامتی شناخت درج ہوں گی۔گواہوں کو خصوصی کوڈز دیے جائیں گے جبکہ عدالتی احکامات بھی انہی علامتی شناختوں کے ساتھ دستخط ہوں گے۔ یہ ریکارڈ صرف چیف جسٹس اور اتھارٹی کے پاس محفوظ رہے گا۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمالمخصوص مقدمات کی کارروائی ویڈیو کانفرنسنگ اور آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے کی جا سکے گی۔ شناخت چھپانے کے لیے آواز بدلنے کی ٹیکنالوجی بھی استعمال ہوگی۔ سماعت صرف محفوظ احاطوں میں ہوگی جہاں صرف متعلقہ افراد کو رسائی دی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر سماعت جیل یا کسی محفوظ مقام سے ورچوئل نظام کے ذریعے بھی کی جا سکے گی۔
اپیلوں اور دیگر کارروائی پر اطلاقیہ نیا قانون اپیلوں اور تمام متعلقہ عدالتی کارروائیوں پر بھی لاگو ہوگا تاکہ معلومات خفیہ رکھ کر تمام فریقین کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
قانون کی منظوری کے بعد بلوچستان میں انسداد دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت اور اس سے جڑے تمام مراحل ایک نئی سمت اختیار کریں گے، جہاں سیکیورٹی اور انصاف کے تقاضوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان عدالتی نظام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان عدالتی نظام انسداد دہشتگردی مقدمات کی چیف جسٹس کے لیے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔