پاکستان میں پہلی اے آئی بیسڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ کار تیار
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت پر ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لئے شاہکار گاڑی تیار کرلی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک وقاص نذیر نے اس گاڑی کا تعارف دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پہلی آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیسڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ کار تیار کی گئی ہے جو لاہور سمیت پنجاب بھر کے لئے متعارف کرائی گئی ہے۔
یہ گاڑی جدید کیمروں اور سنسرز سے لیس ہے۔ اس کے اندر ایک فیشل ریگنائزیشن کیمرہ اور4 کیمرے باہر نصب کئے گئے ہیں۔۔
گاڑی کے اندر ٹیب فنگرز پرنٹ کے لئے بائیو میٹرک مشین بھی نصب ہے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی ٹیسٹ کے حوالے سے متعلقہ ہدایات کے لئے آٹومیٹڈ فیچر بھی دستیاب ہوگا۔
ٹیسٹ کےلئے کاونٹ ڈاون ٹائمر، ہینڈ بریک اینڈ سیٹ بیلٹ کنفگریشن بھی ہے۔ مزید برآں ایک سے زائد مرتبہ ریورس گئیر استعمال کرنے پر گاڑی امیدوار کو فیل ڈیکلئیر کردے گی۔
ٹیسٹ کا رزلٹ خودکارسسٹم کے تحت آٹومیٹکلی اپڈیٹ ہوگا۔ آے آئی بیسڈ گاڑی پہلی دفعہ لاہور میں استعمال کی جائے گی اسکے بعد دیگر شہروں میں بھجوائی جائےگی۔ اے آئی بیسڈ گاڑی ٹریفک پولیس نے اپنی مددآپ کے تحت تیار کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لئے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔