Express News:
2026-06-03@07:56:57 GMT

پاکستان میں پہلی اے آئی بیسڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ کار تیار

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت پر ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لئے شاہکار گاڑی تیار کرلی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک وقاص نذیر نے اس گاڑی کا تعارف دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پہلی آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیسڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ کار تیار کی گئی ہے جو لاہور سمیت پنجاب بھر کے لئے متعارف کرائی گئی ہے۔

یہ گاڑی جدید کیمروں اور سنسرز سے لیس ہے۔ اس کے اندر ایک فیشل ریگنائزیشن کیمرہ اور4 کیمرے باہر نصب کئے گئے ہیں۔۔

گاڑی کے اندر ٹیب فنگرز پرنٹ کے لئے بائیو میٹرک مشین بھی نصب ہے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی ٹیسٹ کے حوالے سے متعلقہ ہدایات کے لئے آٹومیٹڈ فیچر بھی دستیاب ہوگا۔

ٹیسٹ کےلئے کاونٹ ڈاون ٹائمر، ہینڈ بریک اینڈ سیٹ بیلٹ کنفگریشن بھی ہے۔ مزید برآں ایک سے زائد مرتبہ ریورس گئیر استعمال کرنے پر گاڑی امیدوار کو فیل ڈیکلئیر کردے گی۔

ٹیسٹ کا رزلٹ خودکارسسٹم کے تحت آٹومیٹکلی اپڈیٹ ہوگا۔ آے آئی بیسڈ گاڑی پہلی دفعہ لاہور میں استعمال کی جائے گی اسکے بعد دیگر شہروں میں بھجوائی جائےگی۔ اے آئی بیسڈ گاڑی ٹریفک پولیس نے اپنی مددآپ کے تحت تیار کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار