بیوی کا نان و نفقہ نکاح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے، رخصتی سے مشروط نہیں، سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
بیوی کا نان و نفقہ نکاح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے، رخصتی سے مشروط نہیں، سپریم کورٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ نکاح کے ساتھ ہی بیوی کا حقِ نان و نفقہ شروع ہو جاتا ہے، یہ رخصتی یا ازدواجی تعلقات سے مشروط نہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نان و نفقہ کا حق نکاح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے، اور اس کی ادائیگی شوہر کا قانونی فریضہ ہے اس کی صوابدید پر منحصر نہیں۔پندرہ صفحات کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے رخصتی نہ ہونے کی بنیاد پر شوہر کو نان و نفقہ کی ادائیگی سے مبرا قرار دیا تھا، جو قانون اور آئین کی روح کے منافی ہے۔ازدواجی تعلقات سے نان و نفقہ کو مشروط کرنا،بنیادی حق کو متاثر کرنے کے ساتھ شوہروں کو اپنی مالی ذمہ داری سے بچنے کا موقع دیتا ہے۔ بیوی کے اس حق کو جسمانی موجودگی کے تابع بنانا، آئین میں دی گئی صنفی مساوات کی کی نفی ہے۔
فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے استعمال کی گئی زبان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ کہا گیا کہ ایسے معاملات پر فیصلے دیتے وقت جج صرف ثالث نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشرے کو ترقی پسند سوچ کی طرف رہنمائی دینے والے رہبر بھی ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جج صاحبان کو ہدایت دی کہ وہ ایسی زبان استعمال کریں جو خواتین کی برابر قانونی حیثیت کی توثیق کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.2فیصد کمی،سالانہ شرح 5.03فیصد ہوگئی ایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.2فیصد کمی،سالانہ شرح 5.03فیصد ہوگئی عمران خان کا توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل رکوانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع پاکستان نے آئی ایم ایف سے نیا میونسپل ٹیکس لگانے کی اجازت مانگ لی پاکستان اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹ سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان بلاول بھٹو کا حکومت سے سیلاب متاثرین کیلئے بین الاقوامی امداد کی اپیل کا مطالبہ وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کیلیے بجلی بلز میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نکاح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے سپریم کورٹ
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔