Express News:
2026-06-03@04:17:24 GMT

ماحولیاتی زرعی ایمرجنسی، ایمرجنسی ہو

اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT

سیلابی پانی کو زمین نے اپنے سینے سے ابھی تک لگا رکھا ہے۔ جہاں جہاں پانی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، ان کھیتوں پر کسان کی سال بھرکی محنت رنگ لانے والی تھی کہ ان فصلوں کو بھارت سے آئے ہوئے ظالم ریلوں نے زمین میں ہی دبا دیا ہے۔ دیہات کے گلی کوچوں میں ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ اس پانی نے زمین کے سینے کو چھلنی چھلنی کردیا ہے۔کیچڑ نے کپاس کے پودوں کی کمر توڑ دی ہے۔

ایسے میں ہر کسان سوچ رہا تھا کہ میری فصلیں بھی برباد ہو گئیں، قرض بھی سر پر چڑھ گیا ہے۔ مال و اسباب بھی سب کچھ بہہ گیا کچھ باقی جو بچا تھا وہ بڑی کشتیوں میں بیٹھ کر آنے والے رات کے اندھیرے میں چرا کر لے گئے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہا جاتا ہے کہ کوئی 70 برس گزرے کہ 68 سیلابوں سے پاکستان کو کبھی کم کبھی زیادہ واسطہ پڑا ہے، لیکن اس مرتبہ کا سیلاب سپر فلڈ بنا۔ کیونکہ بھارت ہر روز زوردار دھماکے دار ریلے چھوڑتا چلا جا رہا ہے۔

ایسے میں پاکستان کی معاشیات کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والی زرعی معیشت ڈوب کر رہ گئی ہے اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت کو نکھارنے والا سنوارنے والا، کسان اکثر اوقات ملکی سیاست، بدانتظامی، رشوت، نااہلی اور قدرتی آفات اور بھارتی کینہ پروری کے بیچ پستا آیا ہے۔ کپاس جوکہ ملکی برآمدات میں اربوں ڈالر کا حصہ ڈالتی ہے، چاول جو ملکی خوراک کے ساتھ بیرون ملکوں کے لیے خوراک فراہم کرتی ہے اور زرمبادلہ سمیٹ کر لاتی ہے۔

ایسے میں اسلام آباد کے شاندار ہال میں وزرا جمع ہوئے، فائلیںکھل گئیں، کمیٹیاں تشکیل پا گئیں اور اسی وقت ایوان اقتدار سے وزیر اعظم شہباز شریف کی آواز بلند ہوئی ’’ ملک میں ماحولیاتی زرعی ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے‘‘ ادھر دیہات کے گلی کوچوں میں پانی ٹھہر چکا تھا۔ فصلیں برباد ہو گئی تھیں۔ متاثرین سے کہا گیا تھا کہ کیمپوں میں چلیں، لیکن وہ کہہ رہے تھے کہ ہم زیادہ دور نہیں جا سکتے۔

آخر کیوں وہ گویا ہوئے یہاں ایمرجنسی لگی ہوئی ہے، انتظامیہ پریشان تھی، حیران تھی کہ یہ کیسی خود ساختہ ایمرجنسی لگی ہوئی ہے جو کسان کو اس موت کے میدان سے نکلنے نہیں دے رہی۔ خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ حکومت کے پاس چھوٹی چھوٹی کشتیاں ہیں اور ایسی کشتیاں ان جگہوں پر بھی نہیں جا سکتیں جہاں درخت گرے پڑے ہوں،گھاس پھیلی ہوئی ہو۔

بہت سے لوگ جیسے تیسے کرکے قریبی اونچی جگہ پر پناہ گزیں ہو گئے۔ حکومتی اہلکار کہہ رہے تھے کہ یہاں سے دورکیمپوں میں چلو مگر وہ کہہ رہے تھے ہمیں اپنے گھر نظر آ رہے ہیں، اگر ہم یہاں سے چلے گئے رات کو بڑی بڑی جہاز نما کشتیاں لے کر چور آئیں گے اور سارا سامان، بکریاں، زیورات، بستر، بیڈ اور سب کچھ لاد کر لے جائیں گے۔ حکومت نے تو زرعی ایمرجنسی لگا دی جس کا نتیجہ کب نکلے گا، لیکن چوروں نے ہم پر یہ ایمرجنسی تھوپ دی ہے۔ یہ چور آتے ہیں ہمارا سب کچھ چرا کر لے جاتے ہیں۔

جب نجی کشتی والوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ 40 ہزار 50 ہزار کرایہ طلب کر رہے ہیں، لوگوں کو سیلاب سے نکالنے کا۔ ایک طرف پانی بڑھتا جا رہا ہے دوسری طرف حکومتی کشتیوں کے انتظار میں لوگ ڈوب رہے تھے۔ ایسے میں نجی کشتیوں والے آئے اور فی شخص 20 ہزار یا 40 ہزار طلب کر رہے تھے۔

یہ قیمت کسی لوٹ مار سے کم نہیں۔ یہ خبر پہنچی کسی بڑے افسر تک تو اس نے بہت ہی مناسب فیصلہ سنا دیا کہ ان کشتیوں کو ان سے لے کر سرکاری ریسکیو کے اہلکاروں کو دے دیا جائے۔ حکومت رات کے اندھیرے میں آنے والے ان چوروں کو بھی پکڑے جو بڑی بڑی کشتیاں لے کر آ رہے ہیں اور سامان چرا کر لے جا رہے ہیں۔ ان کشتیوں کو بھی پکڑ کر ریسکیو والوں کو دے دیا جائے اور چوروں کو سزا بھی ملنی چاہیے۔وزیر اعظم نے حکام کو یہ ذمے داری دی ہے کہ وہ ایک پروگرام تیار کریں اور ایک روڈ میپ پیش کیا جائے کہ موسمیاتی تغیرات اور زرعی نقصانات سے کس طرح نمٹنا ہے اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی احسن اقبال کریں گے۔

وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ آیندہ ہفتے تک سامنے آئے گا تاکہ زرعی نقصانات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ موسمیاتی تبدیلی قدرتی آفات اور بھارتی آبی جارحیت نے لاعلاج مسائل پیدا کردیے ہیں۔ سیلابی پانی کھیتوں میں کھڑا ہو جائے گا جس کی فوری نکاسی نہیں ہو پائے گی۔ ایمرجنسی کا اعلان تو ہوگیا لیکن کیا اس پر فوری عمل درآمد کی راہ ہموار کر لی گئی ہے۔

کسان کو اس کے کھیت پر کھاد کی بوریاں پہنچائیں۔ وہیں پر اسے اصلی بیج پہنچا دیں۔ زرعی ادویات کا حسب ضرورت مفت اسپرے کرایا جائے۔ چیک دے کر بینک کے چکر نہ کٹوائے جائیں بلکہ بینک کو کسان کے گھر پر حاضرکیا جائے۔

وہیں پر چیک جمع کرے اور فوراً نقد رقم دی جائے۔ مکانات کی تعمیر کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ جزوی نقصان والے مکان کے لیے 5 لاکھ روپے اور مکمل تباہ شدہ مکان کے لیے 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ یہ اعلان محض اعلان نہ رہے بلکہ فوری رقوم فراہم کر دی جائیں۔ ایمرجنسی کے ساتھ پورے ملک کے زرعی ڈھانچے کو مضبوط تر کیا جائے۔ یہ ایمرجنسی حکومتی اقدامات سے اس وقت موثر بنے گی جب عوام کسان، مقامی بلدیاتی نمایندے، نجی تنظیموں اور این جی اوز وغیرہ اور دیگر کو شامل کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا جائے ایسے میں رہے تھے رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا