پنجاب میں تباہی کی داستانیں رقم کرتے ہوئے سیلاب کا سندھ کے بیراجوں پر دباؤ
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
لاہور، ملتان، کشمور (نیوزڈیسک) پنجاب میں تباہی پھیلاتے ہوئے سیلاب سندھ میں بھی زور پکڑنے لگا ہے، دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر پانی کی آمد میں اضافے سے اونچے درجے کا سیلاب آ گیا۔
دریائے چناب نے جلالپور پیر والا میں تباہی مچانے کے بعد تحصیل شجاع آباد کا رخ کر لیا، شجاع آباد شہر کو بچانے والے بند میں 250 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، پانی شہر کی جانب بڑھنے لگا، درجنوں بستیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں، ہزاروں شہری دربدر ہو گئے۔
موضع دھوندھو کابند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں زیر آب آئی ہیں اور پانی کی بے رحم لہریں 138 بستیاں بہا لے گئی ہیں، بستی گا گراں میں فصلیں تباہ ہو گئیں، لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
علی پور اور سیت پور کے مضافاتی علاقوں میں بڑا نقصان ہو رہا ہے، ہزاروں ایکڑ پر فصلیں پانی کی نذر ہو چکی ہیں، لیاقت پور میں سیلابی پانی سے 21 موضع جات متاثر ہوئے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سینئر وزیر مریم اورنگزیب علی پور پہنچ گئیں، امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہی ہیں، ریسکیو آپریشن تیز کر دیا گیا۔
بہاولنگر کے موضع چاویکا ،جھلن آرائیں اور چک فتویرا میں سیلابی پانی سے راستے تاحال منقطع ہیں۔
میلسی، خیرپور ٹامیوالی اور کہروڑ پکا میں 24 سے 36 گھنٹوں میں پانی کی واضح کمی نظر آنا شروع ہو جائے گی، میلسی کے سیلاب زدہ علاقوں میں 6 سے 8 فٹ پانی موجود ہے۔
میلسی میں ڈاکٹر، فلاحی تنظیمیں سیلاب زدگان بھائیوں کی امداد میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
لیاقت پور کے اکثر متاثرین منچن بند پر بغیر کیمپ کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سیلاب سے35 موضع جات، 84721 آبادی متاثر ہوئی ہے، ڈپٹی کمشنر کے مطابق سیلاب متاثرہ بچوں کے لیے عارضی کلاس روم قائم کر دیا گیا ہے۔
جلال پور پیر والا کے نواحی گاؤں 86 ایم میں ریسکیو آپریشن مکمل ہو گیا، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے ریسکیو و ریلیف آپریشن کی خود نگرانی کی۔
دوسری طرف بہاولپور، دنیا پور، شہر سلطان کے سیلاب متاثرین بے یار و مددگار ہیں، راشن ہے نہ پینے کا پانی مل رہا ہے، حکومت سے داد رسی کی اپیل کی گئی ہے۔
بہاول پور کے دیہی علاقے بھی پانی کے گھیرے میں آگئےجہاں 4 تحصیلوں کے 100 سے زائد دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہيں۔
لودھراں میں 2 حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا جس کے بعد ڈرون کی مدد سے پانی ميں گھرے افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث 5 ہزار کے قریب دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہيں۔
دریائے چناب میں سیلاب کے باعث مجموعی طورپر 2 ہزار 334 دیہات متاثر ہوئے، دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث 672 دیہات متاثر ہوئے جب کہ دریائے راوی میں سیلاب کے باعث ایک ہزار 482 موضع جات متاثر ہوئے۔
پنجاب میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 45 لاکھ لوگ متاثرہوئے، سیلاب میں پھنسے 24 لاکھ 51 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
سیلابی ریلے صوبہ سندھ کے جنوبی حصے کی طرف بڑھنے لگے
صوبہ سندھ 2022 میں تباہ کن سیلاب کا شکار ہوا، جب موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب سے پاکستان بھر میں 1739 افراد جان سے گئے۔
دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے سے مزید کچے کے دیہات زیرآب آگئے ہیں، گڈو بیراج پر 15 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پيدا ہو سکتی ہے۔
دریائے سندھ کے برڑا پتن پر پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوا، بہاؤ 4 لاکھ 22 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ ہوا، نوڈیرو کے دیہات میں پانی داخل ہو گیا، زمینی راستے بند ہو گئے، مکین کشتیوں کے ذریعے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔
نوڈیرو میں تاحال ریسکیو ٹیمیں گاؤں نہیں پہنچ سکی ہیں، سیلابی پانی سے چاؤل، مکئی اور تیلوں کی فصلوں کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گڈوبیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 5 لاکھ37 ہزار کیوسک ہوگیا جسے اونچے درجے کا سیلاب قرار دیا گیا، سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی پانی کی آمد بڑھ گئی، سکھربیراج پرپانی کی آمد 4لاکھ 60 ہزار کیو سک ریکارڈکی گئی جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
دریا ئے سندھ میں کوٹ مٹھن راجن پور ، چاچڑاں شریف پر پانی کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا، پانی کی سطح بلند ہوکر 11.
ہیڈ پنجند کا سیلابی ریلا کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہورہا ہے جس کی وجہ سے کچے کے علاقوں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر بہاؤ میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے جہاں پانی کا بہاؤ تقریبا 30 ہزار کیوسک کم ہو کر 6 لاکھ 33 ہزار پر آگیا مگر اب بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ تحصیل علی پور کے کچے کے علاقے ملاں والی میں بھی پانی داخل ہوا جس کے بعد علاقہ مکین نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بھی پانی کے بہاؤ میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے تاہم درمیانے درجے کا سیلاب تاحال برقرار ہے۔
ادھر دریائے ستلج کی طغیانی کا زور ٹوٹنے لگا ہے، گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک کم ہونے کے بعد نچلے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہوگیا، ہیڈ سلیمانکی پر نچلے اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کے سیلاب برقرار ہیں۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اونچے درجے کا سیلاب دریائے سندھ سیلابی پانی پانی کی آمد متاثر ہوئے پر پانی کی میں سیلاب کے سیلاب بھی پانی سیلاب کے کے باعث پور کے کے بعد
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔