پنجاب کے بعد سیلاب سندھ میں زور پکڑنے لگا، گڈوبیراج پر پانی کی آمد میں اضافہ، اونچے درجےکا سیلاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
پنجاب کے بعد سیلاب سندھ میں زور پکڑنے لگا، گڈوبیراج پر پانی کی آمد میں اضافہ، اونچے درجےکا سیلاب WhatsAppFacebookTwitter 0 13 September, 2025 سب نیوز
پنجاب کے بعد سیلاب سندھ میں زور پکڑنے لگا۔ دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر پانی کی آمد میں اضافے سے اونچے درجے کا سیلاب آ گیا۔
گڈوبیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 5 لاکھ37 ہزار کیوسک ہوگیا۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطاق سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی پانی کی آمد بڑھ گئی، سکھربیراج پرپانی کی آمد 4لاکھ 60 ہزار کیو سک ریکارڈکی گئی جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے سندھ میں کوٹ مٹھن راجن پور ، چاچڑاں شریف پر پانی کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا، پانی کی سطح بلند ہوکر 11.
ہیڈ پنجند کا سیلابی ریلا کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہورہا ہے جس کی وجہ سے کچے کے علاقوں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر بہاؤ میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے جہاں پانی کا بہاؤ تقریبا 30 ہزار کیوسک کم ہو کر 6 لاکھ 33 ہزار پر آگیا مگر اب بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ تحصیل علی پور کے کچے کے علاقے ملاں والی میں بھی پانی داخل ہوا جس کے بعد علاقہ مکین نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بھی پانی کے بہاؤ میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے تاہم درمیانے درجے کا سیلاب تاحال برقرار ہے۔
ادھر دریائے ستلج کی طغیانی کا زور ٹوٹنے لگا۔گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک کم ہونے کے بعد نچلے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہوگیا۔ ہیڈ سلیمانکی پر نچلے اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کے سیلاب برقرار ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنڈی وال گروپ کا یادگار اجلاس، ماضی کی حسین یادیں تازہ ایشیا کپ،پاکستان کا عمان کو جیت کیلئے 161رنز کا ہدف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے2ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور سیلاب بھی رکاوٹ نہ بن سکا، دولہا کشتی میں دلہن لے آیا پاسپورٹ بلاک ہونے کا معاملہ، علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی صدرِ مملکت آصف زرداری چین کے سرکاری دورے پر چنگدو پہنچ گئے ٹرمپ کے مقتول ساتھی چارلی کرک کے مبینہ قاتل کو گرفتار کرلیا گیا، امریکی صدر کی تصدیقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پر پانی کی آمد میں کے بعد
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔