حکومت کی آئی ایم ایف سے سیلاب متاثرین کے بجلی بل تین ماہ کیلیے مؤخر کرنے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کیلیے آئی ایم ایف سے بجلی کے بلوں میں ریلیف مانگ لیا، پاکستانی حکام عالمی ادارے سے متاثرہ علاقوں کے بجلی بل 3ماہ کیلیے موخر کرنے کی درخواست کرینگے جیسا کہ 2022ء کے سیلاب کے دوران کیا گیا تھا۔
پاکستان کے 3دریائوں میں حالیہ سیلاب سے اب تک لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں، 13لاکھ ایکڑرقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے وزارت خزانہ کو بجلی کے بلوں میں ریلیف کیلیے عالمی ادارے کے ساتھ رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزارت خزانہ کے حکام نے جمعے کو اس ضمن میں آئی ایم ایف حکام کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کی اور ان سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے بجلی کے بل 3ماہ کیلیے موخرکرنے کی درخواست کی۔آئی ایم ایف نے نقصانات کا ڈیٹا مانگ لیا ہے جو پاورڈویژن اسی ہفتے فراہم کردے گی۔
ذرائع کے مطابق اب تک لیسکو،گیپکو، فیسکو اور میپکو کے صارفین سیلاب سے متاثرہوئے ہیں تاہم سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے صارفین پر بھی سیلاب کا اثر پڑ سکتا ہے۔
وفاقی وزیرتوانائی سردار اویس لغاری نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ان کیلئے فوری نوعیت کا معاملہ تو اگست کے بل ہیں جن کی ادائیگی اب واجب ہوچکی ہے۔ہم اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کررہے ہیں جس کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ انہیں کتنی مالی ضروریات درپیش ہیں۔وزیراعظم صارفین پر بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں،اس ضمن میں باقاعدہ اعلان جلد کردیا جائیگا۔
حکومت اس معاملے میں مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے ،ان میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثرہ لوگوں کو ریلیف فراہم کردیا جائے ۔لیکن اس کا فائدہ سبھی متاثرین کو نہیں ہوگا ،لہذا دوسرا آپشن یہ ہے کہ متاثرین کو فلڈ ریلیف پیکج دیا جائے ۔حالیہ سیلاب سے گجرات،گوجرانوالا، سیالکوٹ،نارووال ،قصور،مظفرگڑھ،ملتان اور بہاولپورکے اضلاع بری طرح متاثرہوئے ہیں جہاں ساڑھے 6 ہزار مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں،13لاکھ 20 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ۔
لوگوں کو اس وقت حکومتی امداد کی سخت ضرورت ہے کیونکہ وہ اپنے گھربارکے ساتھ ذریعہ معاش سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔حکومت اس کیلئے پہلے ہی زرعی ایمرجنسی کا اعلان کرچکی ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ریلیف دیہی او رشہری دونوں طرح کے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی طرف سے ابھی تک 13لاکھ 20 ہزار ایکڑ رقبے پر فصلوں کو ہونے والے نقصان کا کلیم پیش نہیں کیا گیا۔پنجاب حکومت ابھی تک پانی اترنے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔وفاقی وزیرنیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویرحسین کہ چکے ہیں کہ حکومت متاثرہ علاقوں کے زمینداروں کے مالی واجبات معاف کردے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جونہی متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوگا فارمرزسپورٹ پیکج کا اعلان کردیا جائے گا۔نقصانات کے ابتدائی ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان گوجرانوالا ڈویژن کو ہوا ہے جو 18 فیصد ہے۔یہاں چاول کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد اسی ماہ کے آخرمیں پاکستان آرہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ ان ملاقاتوں میں عالمی ادارے سے پرائمری بجٹ سرپلس اور صوبائی کیش سرپلس پرنظرثانی کی درخواست کرنے کا جائزہ لے رہی ہے ،وزارت خزانہ فارمرز سپورٹ پیکیج پر بھی کام کررہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں کے ا ئی ایم ایف کی درخواست سے متاثرہ سیلاب سے کرنے کی
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔