100 سے زائد بچوں سے زیادتی کا مرتکب شخص گرفتار، ویڈیوزبرآمد،این سی آر سی کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
کراچی کے علاقے قیوم آباد سے پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے موبائل فون اور یو ایس بی ڈیوائس سے درجنوں نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:قائمہ کمیٹی: بچوں سے زیادتی کے مقدمات کی سماعت کے لیے چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور
پولیس نے مقدمے میں چائلڈ پورنوگرافی اور پیکا ایکٹ کی دفعات شامل کرتے ہوئے ملزم کو عدالت میں پیش کیا۔
قومی اخبار میں شائع ثاقب صغیر کی رپورٹ کے مطابق، ملزم کئی سال سے قیوم آباد میں مقیم تھا اور شربت کا ٹھیلا لگانے کے بہانے کم عمر بچوں اور بچیوں کو ورغلا کر اپنے گھر لے جاتا تھا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، متاثرین کی عمریں 5 سے 12 سال کے درمیان ہیں۔عدالت نے ملزم کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
حکام کے مطابق تفتیشی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزم 2011ء میں ایبٹ آباد سے کراچی آیا تھا اور 2016ء میں قیوم آباد منتقل ہونے کے بعد اس نے یہ مکروہ سلسلہ شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایف آئی اے کی کارروائی: بچوں سے جنسی زیادتی میں ملوث گینگ کا سرغنہ گرفتار
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ ایک بچی کی نشاندہی پر برآمد ہونے والی یو ایس بی ڈیوائس سے 100 سے زائد ویڈیوز ملی ہیں۔
ان کے مطابق ملزم کے پاس سے ایک ڈائری بھی ملی ہے جس میں متاثرہ بچوں کی تفصیلات درج ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف اس سے قبل بھی ایسے نوعیت کے مقدمات درج ہو چکے ہیں اور اب تفتیش مزید پہلوؤں سے کی جا رہی ہے۔
این سی آر سی کا شدید ردعملنیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی) نے کراچی میں کم عمر بچیوں سے مبینہ بدسلوکی کے ہولناک انکشافات پر گہری تشویش اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ سو سے زائد کمسن بچیوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات انسانیت کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔
The NCRC expresses its deepest outrage over the horrifying revelations of serial child sexual abuse involving a sharbet vendor in Karachi.
We… pic.twitter.com/9SRi2PA2Zd
— National Commission on The Rights of Child (NCRC) (@NCRC_Pakistan) September 13, 2025
این سی آر سی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ جرائم نہ صرف بچوں بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے ناقابلِ بیان صدمات اور تکالیف کا سبب بنے ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ ان مکروہ جرائم کے ذمہ دار شخص کو کسی بھی قسم کی رعایت دیے بغیر سخت اور فوری سزا دی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کیس کو ایک واضح مثال بننا چاہیے تاکہ آئندہ بچوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو سخت نتائج بھگتنا پڑیں۔
کمیشن نے مطالبہ کیا کہ انصاف میں کوئی تاخیر یا کمزوری نہیں ہونی چاہیے۔
این سی آر سی نے متاثرہ بچوں اور ان کے اہلِ خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن شفافیت، احتساب اور سب سے بڑھ کر انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این سی آر سی بچوں سے زیادتی بدفعلی قیوم آباد کراچی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این سی آر سی بچوں سے زیادتی بدفعلی قیوم ا باد کراچی کے مطابق بچوں سے کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔