ایشیاکپ: پاکستان کیخلاف بائیکاٹ کے مطالبات پر بھارتی ٹیم نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
دبئی(سپورٹس ڈیسک) بھارتی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ سیتانشو کوٹک نے کہا ہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف میچ سے متعلق سیاسی ہلچل کے باوجود ٹیم کی نظریں صرف اور صرف کرکٹ پر ہیں۔
پاکستان اور بھارت کل دبئی میں آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان رواں سال مئی میں سرحدی کشیدگی کے بعد پہلا ٹکراؤ ہوگا، جس نے میچ کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
کوٹک نے دبئی کے آئی سی سی اکیڈمی گراؤنڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“جب بی سی سی آئی نے کہا کہ وہ حکومت کے فیصلے کے ساتھ ہے تو ہماری توجہ صرف میچ پر ہی رہی۔ پاکستان بمقابلہ بھارت ہمیشہ ایک سنسنی خیز مقابلہ ہوتا ہے اور کھلاڑی اسی پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔”
بھارتی میڈیا کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کھلاڑی سرحدی کشیدگی کے بعد کے حالات سے متاثر ہیں، تو ان کا جواب تھا کہ کھلاڑیوں کے ذہن میں صرف کھیل ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت کی نئی پالیسی کے تحت بھارت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز میں حصہ نہیں لے گا، البتہ ایشیا کپ اور آئی سی سی ایونٹس جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں دونوں ٹیموں کی ٹکر جاری رہے گی۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کے ساتھ **پاک بھارت میچ کی متوقع پلیئنگ الیونز** بھی شامل کر دوں تاکہ شائقین کو میچ سے پہلے ایک مکمل پیکچر مل سکے؟
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔