دبئی: بھارتی کرکٹرز کا پریکٹس سیشن میں بھی پاکستانی نیٹ بولرز کیساتھ تصویر کشی سے گریز
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: ایشیا کپ میں شریک بھارتی کرکٹرز دبئی میں پریکٹس کے دوران پاکستانی نیٹ بولرز کے ساتھ میل جول یا تصاویر بنوانے سے مکمل طور پر گریز کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب چند روز قبل بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کی ایشین کرکٹ کونسل اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے مصافحے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس پر بھارتی میڈیا اور صارفین نے سخت ردعمل دیا۔
آئی سی سی اکیڈمی دبئی میں بھارتی ٹیم جب پریکٹس کے لیے آتی ہے تو مختلف کلبز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی نیٹ بولنگ کرانے پہنچتے ہیں۔ تاہم بھارتی ٹیم انتظامیہ نے ان بولرز پر سخت ہدایات عائد کر رکھی ہیں کہ وہ اسمارٹ فونز استعمال نہ کریں اور نہ ہی کھلاڑیوں کی تصاویر بنائیں۔
انتظامیہ نے یہ تک انتظام کیا ہے کہ نیٹ بولرز کے اسمارٹ فونز پریکٹس کے آغاز پر اپنے پاس رکھ لیتی ہے اور پریکٹس ختم ہونے کے بعد ہی واپس کرتی ہے، تاکہ کسی قسم کی تصاویر یا رابطے سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔