بھارتی آرمی کے اہلکاروں کا تنخواہ میں اضافے کیلئے مختلف شہروں میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
بھارتی آرمی کے اہلکاروں کا ضروریات پوری نہ ہونے اور مراعات نہ ملنے پر ریاست بہار کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
پٹنا میں احتجاج کرتے ہوئے بھارتی آرمی کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا سلسلہ پورے ملک میں پھیلا دیں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج کرنے والوں میں سابق اور حاضر سروس دونوں فوجی اہلکار شامل تھے۔
اس حوالے سے یونین کا کہنا تھا کہ ڈائل-112 کو فعال بنانے کے بعد سے اب تک 15 سابق فوجی ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔
یونین کا کہنا تھا کہ ڈائل-112 میں ملازمت کرنے والے سابق فوجیوں کو فلاحی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں۔
مظاہرے میں موجود ایک شخص نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کب سے مطالبات کر رہے تھے اور اس حوالے سے کئی خطوط بھی دیے لیکن ہماری سنی نہیں جارہی تھی۔
مظاہرے میں شریک شخص نے مزید کہا کہ آخر میں ہار کر ہم نے سڑک پر اترنے کا فیصلہ کیا۔
Historic protest by the Indian Army against its own government!
In the Indian state of Bihar, Indian Army personnel, due to unfulfilled benefits and basic needs, took to the streets in full uniform and openly threatened to strike.
This is a unique incident in the world where a… pic.twitter.com/tLVp4x9U8t
— Eagle Claw (@EagleClawStrike) September 13, 2025
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔