خیبرپختونخوا: سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 35 فتنہ الخوارج ہلاک، 12 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
راولپنڈی (نیوزڈیسک) سکیورٹی فورسز نے 10 سے 13 ستمبر کے دوران خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 35 خوارج کو واصلِ جہنم کر دیا جبکہ 12 جوان بھی وطن پر قربان ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا، کارروائی کے دوران جوانوں نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں سرگرم 22 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ ایک اور جھڑپ جنوبی وزیرستان میں پیش آئی جہاں مزید 13 خوارج کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران وطن کے 12 بہادر سپوت جام شہادت نوش کر گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی سرپرستی میں سرگرم ہلاک شدہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو ان علاقوں میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس نے بلا کسی شک و شبہ افغان شہریوں کی ان مذموم کارروائیوں میں براہِ راست شمولیت کی تصدیق کی ہے، فتنہ الخوارج دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا ایک سنگین تشویش ہے، پاکستان توقع کرتا ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقے میں بھارتی سرپرستی میں موجود کسی بھی خوارج کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے کیونکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرست دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز خوارج کو
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔