ایشیا کپ: پاک-بھارت ٹاکرا آج ہوگا، دبئی پولیس کا نسل پرستانہ فقروں پر سزاؤں کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
ایشیا کپ: پاک-بھارت ٹاکرا آج ہوگا، دبئی پولیس کا نسل پرستانہ فقروں پر سزاؤں کا انتباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 14 September, 2025 سب نیوز
پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اتوار (14 ستمبر) کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ایشیا کپ کے مقابلے میں آمنے سامنے ہوں گی، میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا۔
شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں سہ ملکی ٹی 20 سیریز جیتنے کے بعد پاکستان ٹیم نے ایشیا کپ کا آغاز 12 ستمبر کو عمان کے خلاف شاندار 93 رنز کی فتح کے ساتھ کیا تھا۔
ایشیا کپ کے ایک روزہ فارمیٹ میں سال 2000 اور 2012 کی فاتح پاکستان ٹیم کی نظریں اس بار ٹی 20 فارمیٹ پر جمی ہوئی ہیں۔
ادھر دبئی میں حکام نے ایشیا کپ کے میچز کے دوران بد زبانی، تشدد اور نسل پرستانہ فقرے بازی روکنے کی تیاری کرلی۔
دبئی پولیس نے کرکٹ فینز کو خبردار کر دیا ہے کہ بدزبانی، تشدد اور نسل پرستانہ جملے کسنے پر کرکٹ فینز کو ایک سے 3 ماہ کی قید اور 23 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔
دبئی پولیس کے ایونٹس سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین میجر جنرل سیف محیر المزروعی کے مطابق تشدد یا بدزبانی کرنے والوں کو 1 سے 3 ماہ قید اور 10 سے 30 ہزار درہم جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پاکستانی کرنسی میں ساڑھے 7 لاکھ سے 23 لاکھ روپے تک بنتا ہے۔
واضح رہے کہ ایشیائی ایونٹ کے اب تک 16 ایڈیشنز کا انعقاد ہو چکا ہے، جن میں سے 2016 اور 2022 کے ایڈیشنز ٹی 20 فارمیٹ میں منعقد ہوئے تھے، متحدہ عرب امارات میں 2022 میں ہونے والے ایڈیشن کے فائنل مقابلے سری لنکا نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دی تھی۔
ایشیا کپ کے لیے 17 رکنی پاکستانی اسکواڈ میں شامل 10 کھلاڑی اس سے پہلے بھی ایشیا کپ میں حصہ لے چکے ہیں، ان میں سے 5 کھلاڑی فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، خوشدل شاہ اور محمد نواز ٹی 20 ایڈیشنز میں بھی گرین شرٹس کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
سہ ملکی سیریز میں 120 رنز اور 10 وکٹوں کے ساتھ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے آل راؤنڈر محمد نواز موجودہ اسکواڈ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2016 اور 2022 کے دونوں ٹی 20 ایشیا کپ ایڈیشنز میں حصہ لیا تھا۔
متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ 2025 میں 8 ٹیموں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے، گروپ اے میں پاکستان، بھارت، عمان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں افغانستان، بنگلہ دیش، ہانگ کانگ اور سری لنکا شامل ہیں۔
پاکستان اپنا آخری گروپ میچ 17 ستمبر کو دبئی میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کھیلے گا۔
ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق، ہر گروپ کی ٹاپ 2 ٹیمیں سپر 4 مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی، جہاں تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف راؤنڈ رابن فارمیٹ کے تحت مدمقابل آئیں گی، سپر فور کے اختتام پر 2 سرفہرست ٹیمیں 28 ستمبر کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
مائیک ہیسن کے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے کے بعد پاکستان نے 14 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں سے 10 میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان فتوحات میں مئی میں بنگلہ دیش کے خلاف 0-3 جولائی، اگست میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 1-2 کی سیریز میں جیت اور شارجہ میں سہ ملکی سیریز کی ٹرافی بھی شامل ہے، جہاں پاکستان نے افغانستان کو 75 رنز سے شکست دی تھی۔
17 رکنی پاکستانی اسکواڈ:
سلمان علی آغا (کپتان)، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد حارث (وکٹ کیپر)، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان مرزا، شاہین شاہ آفریدی اور سفیان مقیم۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بھارت ٹاکرا آج، جیت کس کا مقدر بنے گی، فیصلہ ٹاس پر منحصر؟ پاک بھارت ٹاکرا آج، جیت کس کا مقدر بنے گی، فیصلہ ٹاس پر منحصر؟ سنجے منجریکر نے کن پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارت کیلیے خطرہ قرار دے دیا؟ وفاقی حکومت کا مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین کے بچوں کو وظائف دینے کا اعلان گڈو بیراج اور سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، سینکڑوں بستیاں زیرِ آب توجہ صرف ایک میچ پر نہیں، ایشیا کپ جیتنے پر ہے، صائم ایوب علی پور، ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح میں کمی، بندبوسن میں ریسکیو کارروائیاں جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نسل پرستانہ بھارت ٹاکرا دبئی پولیس ایشیا کپ
پڑھیں:
مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
پاکستان سے مفرور عادل راجہ اور شاہد قاضی کی ایک پوڈکاسٹ میں سامنے آنے والے خود ساختہ اور من گھڑت الزامات کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور مبینہ طور پر دشمن کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کے مطابق یہ بیانیے حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں اور ملکی سلامتی کے نظام کو متنازع بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوبر عادل راجا کا گھناؤنا چہرہ پھر بے نقاب، اسرائیلی اخبار کو پاکستان مخالف انٹرویو دے ڈالا
عادل راجہ کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ انہیں بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کیس میں برطانوی عدالت کی جانب سے سرعام جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی پر سخت فیصلے کا سامنا کرنا پڑا۔ دعوے کے مطابق عدالت نے انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے معافی نامہ اور اقرار نامہ اپنی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد ان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ اسی تناظر میں ان کی حالیہ گفتگو کو بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا جا رہا ہے۔
مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ فوج کے سیاسی کردار اور کرپشن سے متعلق بیانیے زمینی حقائق کے برعکس ہیں، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہی ہیں۔ دعوے کے مطابق اداروں پر سیاسی ناکامیوں کا الزام لگانا اور بیرونی ایجنڈے کے تحت بیانیہ تشکیل دینا قابلِ مذمت عمل ہے، جبکہ فوج میں احتسابی نظام کے تحت اندرونی معاملات پر کارروائی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے پیش کیے جانے والے دعووں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں چمن کو کینٹونمنٹ بنانے اور اسمگلنگ سے متعلق الزامات کو من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں سے اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے میں مدد ملی ہے، اور ایسے بیانیے دراصل ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
منشیات کے کاروبار اور مبینہ پشت پناہی سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ناسور کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور ریاستی وسائل ملک کے دفاع اور انسداد جرائم کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
چین اور پاکستان کے اقتصادی تعلقات اور سی پیک منصوبے پر تنقید کو بھی ایک منظم پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق سی پیک ایک اہم ترقیاتی منصوبہ ہے جس سے لاکھوں افراد کے روزگار اور ملکی معیشت کا براہِ راست تعلق ہے، جبکہ اس کے خلاف بیانیے بیرونی دباؤ اور مفادات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوبر عادل راجہ کی مشکلات کم نہ ہوئیں، لندن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد
آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے حساس اداروں کے درمیان اختلافات سے متعلق دعووں کو بھی سختی سے مسترد کیا گیا ہے اور اسے ذہنی اختراع قرار دیا گیا ہے، جبکہ مؤقف میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارے ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔
آخر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ اپنانے والے عناصر بیرون ملک بیٹھ کر بے بنیاد الزامات پھیلا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی عوام اور ادارے متحد ہو کر ہر قسم کی سازش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان مخالف شاہد قاضی عادل راجہ