سنجے منجریکر نے کن پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارت کیلیے خطرہ قرار دے دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا آج ہوگا جس کے حوالے سے سابق کرکٹرز بھی اپنا اپنا تجزیہ پیش کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سابق بھارتی کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے پاکستانی اسپنرز کو بھارتی ٹیم کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ دبئی کی وکٹس پر پاکستانی اسپن بولنگ اٹیک بھارتی بلے بازوں کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
ورلڈ کلاس فاسٹ بولرز کے حوالے سے مشہور پاکستانی ٹیم نے یو اے ای کی کنڈیشنز کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے اسپن پر زیادہ انحصار کیا ہے۔
سنجے منجریکر نے کہا کہ مجھے پاکستان کا یہ بولنگ کمبی نیشن پسند آیا کیونکہ یہ بھارت بمقابلہ پاکستان ہے اور میرا خیال ہے یہ اٹیک بھارتی بیٹرز کو کچھ مختلف سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
تاہم دوسری جانب سنجے منجریکر نے پاکستان کی بیٹنگ لائن میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔
یاد رہے کہ پاکستان ٹیم حال ہی میں سہ فریقی سیریز جیت کر ایونٹ میں آئی ہے اور ایشیا کپ کے پہلے میچ میں بھی عمان کو 93 رنز سے شکست دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سنجے منجریکر نے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔