WE News:
2026-06-03@07:24:07 GMT

برآمدات میں کمی پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا اظہار تشویش

اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT

برآمدات میں کمی پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا اظہار تشویش

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (PTC) نے برآمدات میں کمی بالخصوص ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں گرتے ہوئے رجحانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

ماہانہ رپورٹ میں خطرناک رجحان کی نشاندہی

PTC کی تازہ ترین ماہانہ برآمدات رپورٹ (جولائی–اگست 2025) کے مطابق پاکستان کی کُل برآمدات 5.

1 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں محض 0.65 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

???? Pakistan’s Textile & Apparel Exports Under Pressure ????
Pakistan’s export data for July–August FY26 paints a concerning picture:
Overall exports stood at $5.1 billion, with August alone showing a 12.5% YoY decline and a 10% MoM fall.
Textile & apparel exports reached $3.21…

— Pakistan Textile Council (@PakTexCouncil) September 13, 2025

تاہم اگست 2025 میں برآمدات سال بہ سال 12.5 فیصد اور ماہ بہ ماہ 10 فیصد کم ہوئیں، جو خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں نمایاں کمی

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ، جو کُل برآمدات کا تقریباً 63 فیصد ہے، نے جولائی–اگست 2025 میں 3.21 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، یعنی 10 فیصد اضافہ۔

تاہم صرف اگست 2025 میں برآمدات گر کر 1.53 ارب ڈالر رہ گئیں، جو سال بہ سال 7 فیصد اور ماہ بہ ماہ 9 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔

روایتی ٹیکسٹائل سب سے زیادہ متاثر

روایتی ٹیکسٹائل (HS 50–60) میں بدترین کمی ریکارڈ ہوئی، برآمدات صرف 523 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ 5 برسوں میں کم ترین سطح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا ہدف معیشت کی ترقی، برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے، وزیراعظم

کپاس کی برآمدات میں 3.5 فیصد اور بنے ہوئے کپڑوں میں 32.7 فیصد کمی سامنے آئی۔

 ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل (HS 61–63) میں اگرچہ طویل مدتی رجحان مثبت ہے، لیکن اگست 2025 میں 13 فیصد ماہانہ کمی ہوئی۔

بڑی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت کمزور

منڈیوں کے اعتبار سے یورپی یونین سب سے بڑی منڈی ہے جس نے 1.3 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ امریکا کو برآمدات 878 ملین ڈالر پر جمی رہیں، جو پاکستان کی کمزور مسابقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔

فوری اصلاحات اور حکومتی اقدامات کا مطالبہ

PTC نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کی عالمی منڈی میں پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی۔

کونسل نے حکومت سے توانائی کے مسابقتی نرخ، ٹیکس ریفنڈز، اجرت اور محنت پالیسیوں کی ہم آہنگی، روایتی ٹیکسٹائل کی بحالی اور کپاس کے معیار میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

روزگار اور زرمبادلہ کے تحفظ پر زور

کونسل نے زور دیا کہ برآمدی صنعتوں کے تحفظ کے لیے EXIM بینک اور دیگر مالیاتی سہولتوں کو مضبوط بنایا جائے اور پالیسی استحکام کے لیے پانچ سالہ قانونی فریم ورک دیا جائے۔
کونسل کے مطابق اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات خطرناک حد تک کم ہوئی ہیں۔ روزگار کے تحفظ، زرمبادلہ میں اضافے اور مسابقت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکسپورٹ برآمدات پاکستان پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ٹیکسٹائل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکسپورٹ برا مدات پاکستان پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ٹیکسٹائل برآمدات میں پاکستان کی ارب ڈالر اگست 2025

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • میر واعظ عمر فاروق کا متعدد شخصیات کی رحلت پر اظہار تعزیت
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف