WE News:
2026-07-24@07:00:13 GMT

برآمدات میں کمی پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا اظہار تشویش

اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT

برآمدات میں کمی پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا اظہار تشویش

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (PTC) نے برآمدات میں کمی بالخصوص ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں گرتے ہوئے رجحانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

ماہانہ رپورٹ میں خطرناک رجحان کی نشاندہی

PTC کی تازہ ترین ماہانہ برآمدات رپورٹ (جولائی–اگست 2025) کے مطابق پاکستان کی کُل برآمدات 5.

1 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں محض 0.65 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

???? Pakistan’s Textile & Apparel Exports Under Pressure ????
Pakistan’s export data for July–August FY26 paints a concerning picture:
Overall exports stood at $5.1 billion, with August alone showing a 12.5% YoY decline and a 10% MoM fall.
Textile & apparel exports reached $3.21…

— Pakistan Textile Council (@PakTexCouncil) September 13, 2025

تاہم اگست 2025 میں برآمدات سال بہ سال 12.5 فیصد اور ماہ بہ ماہ 10 فیصد کم ہوئیں، جو خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں نمایاں کمی

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ، جو کُل برآمدات کا تقریباً 63 فیصد ہے، نے جولائی–اگست 2025 میں 3.21 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، یعنی 10 فیصد اضافہ۔

تاہم صرف اگست 2025 میں برآمدات گر کر 1.53 ارب ڈالر رہ گئیں، جو سال بہ سال 7 فیصد اور ماہ بہ ماہ 9 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔

روایتی ٹیکسٹائل سب سے زیادہ متاثر

روایتی ٹیکسٹائل (HS 50–60) میں بدترین کمی ریکارڈ ہوئی، برآمدات صرف 523 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ 5 برسوں میں کم ترین سطح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا ہدف معیشت کی ترقی، برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے، وزیراعظم

کپاس کی برآمدات میں 3.5 فیصد اور بنے ہوئے کپڑوں میں 32.7 فیصد کمی سامنے آئی۔

 ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل (HS 61–63) میں اگرچہ طویل مدتی رجحان مثبت ہے، لیکن اگست 2025 میں 13 فیصد ماہانہ کمی ہوئی۔

بڑی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت کمزور

منڈیوں کے اعتبار سے یورپی یونین سب سے بڑی منڈی ہے جس نے 1.3 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ امریکا کو برآمدات 878 ملین ڈالر پر جمی رہیں، جو پاکستان کی کمزور مسابقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔

فوری اصلاحات اور حکومتی اقدامات کا مطالبہ

PTC نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کی عالمی منڈی میں پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی۔

کونسل نے حکومت سے توانائی کے مسابقتی نرخ، ٹیکس ریفنڈز، اجرت اور محنت پالیسیوں کی ہم آہنگی، روایتی ٹیکسٹائل کی بحالی اور کپاس کے معیار میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

روزگار اور زرمبادلہ کے تحفظ پر زور

کونسل نے زور دیا کہ برآمدی صنعتوں کے تحفظ کے لیے EXIM بینک اور دیگر مالیاتی سہولتوں کو مضبوط بنایا جائے اور پالیسی استحکام کے لیے پانچ سالہ قانونی فریم ورک دیا جائے۔
کونسل کے مطابق اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات خطرناک حد تک کم ہوئی ہیں۔ روزگار کے تحفظ، زرمبادلہ میں اضافے اور مسابقت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکسپورٹ برآمدات پاکستان پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ٹیکسٹائل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکسپورٹ برا مدات پاکستان پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ٹیکسٹائل برآمدات میں پاکستان کی ارب ڈالر اگست 2025

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف