برآمدات میں کمی پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (PTC) نے برآمدات میں کمی بالخصوص ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں گرتے ہوئے رجحانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔
ماہانہ رپورٹ میں خطرناک رجحان کی نشاندہیPTC کی تازہ ترین ماہانہ برآمدات رپورٹ (جولائی–اگست 2025) کے مطابق پاکستان کی کُل برآمدات 5.
???? Pakistan’s Textile & Apparel Exports Under Pressure ????
Pakistan’s export data for July–August FY26 paints a concerning picture:
Overall exports stood at $5.1 billion, with August alone showing a 12.5% YoY decline and a 10% MoM fall.
Textile & apparel exports reached $3.21…
— Pakistan Textile Council (@PakTexCouncil) September 13, 2025
تاہم اگست 2025 میں برآمدات سال بہ سال 12.5 فیصد اور ماہ بہ ماہ 10 فیصد کم ہوئیں، جو خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں نمایاں کمیٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ، جو کُل برآمدات کا تقریباً 63 فیصد ہے، نے جولائی–اگست 2025 میں 3.21 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، یعنی 10 فیصد اضافہ۔
تاہم صرف اگست 2025 میں برآمدات گر کر 1.53 ارب ڈالر رہ گئیں، جو سال بہ سال 7 فیصد اور ماہ بہ ماہ 9 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔
روایتی ٹیکسٹائل سب سے زیادہ متاثرروایتی ٹیکسٹائل (HS 50–60) میں بدترین کمی ریکارڈ ہوئی، برآمدات صرف 523 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ 5 برسوں میں کم ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا ہدف معیشت کی ترقی، برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے، وزیراعظم
کپاس کی برآمدات میں 3.5 فیصد اور بنے ہوئے کپڑوں میں 32.7 فیصد کمی سامنے آئی۔
ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل (HS 61–63) میں اگرچہ طویل مدتی رجحان مثبت ہے، لیکن اگست 2025 میں 13 فیصد ماہانہ کمی ہوئی۔
بڑی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت کمزورمنڈیوں کے اعتبار سے یورپی یونین سب سے بڑی منڈی ہے جس نے 1.3 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ امریکا کو برآمدات 878 ملین ڈالر پر جمی رہیں، جو پاکستان کی کمزور مسابقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
فوری اصلاحات اور حکومتی اقدامات کا مطالبہPTC نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کی عالمی منڈی میں پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی۔
کونسل نے حکومت سے توانائی کے مسابقتی نرخ، ٹیکس ریفنڈز، اجرت اور محنت پالیسیوں کی ہم آہنگی، روایتی ٹیکسٹائل کی بحالی اور کپاس کے معیار میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
روزگار اور زرمبادلہ کے تحفظ پر زورکونسل نے زور دیا کہ برآمدی صنعتوں کے تحفظ کے لیے EXIM بینک اور دیگر مالیاتی سہولتوں کو مضبوط بنایا جائے اور پالیسی استحکام کے لیے پانچ سالہ قانونی فریم ورک دیا جائے۔
کونسل کے مطابق اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات خطرناک حد تک کم ہوئی ہیں۔ روزگار کے تحفظ، زرمبادلہ میں اضافے اور مسابقت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکسپورٹ برآمدات پاکستان پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ٹیکسٹائل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکسپورٹ برا مدات پاکستان پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ٹیکسٹائل برآمدات میں پاکستان کی ارب ڈالر اگست 2025
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔