صحت کے شعبے میں بڑی کامیابی، اے آئی اور روبوٹ کی مدد سے پہلا پِتّے کا کامیاب آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو میں ڈاکٹروں نے پہلی بار اے آئی اور روبوٹ کی مدد سے پتّے کا آپریشن کامیابی سے مکمل کیا۔
ہسپتال کلینیکا لاس کونڈیس میں کئے گئے اس آپریشن میں جدید سرجیکل سسٹم مارس (MARS) پلیٹ فارم استعمال کیا گیا، جو روبوٹک بازوؤں اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ سے بنایا گیا ہے.
یہ جدید سسٹم ایسا روبوٹک بازو فراہم کرتا ہے، جو آلات کو مریض کے جسم کے اندر مقناطیس کے ذریعے حرکت دیتا ہے، جبکہ دوسرا بازو ایک خودکار کیمرے سے لیس ہے، جو سرجن کے ہاتھ یا پاؤں کی حرکت پر کنٹرول ہوتا ہے۔
ہیڈ آف سرجری ڈاکٹر ریکارڈو فنکے کے مطابق یہ دنیا کی پہلا روبوٹ آپریشن ہے جس میں کسی مریض پر محفوظ اور آزمودہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، یہ نہ صرف اعلیٰ معیار کا منظر فراہم کرتی ہے، بلکہ مستقبل میں سرجری کے طریقہ کار بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی لیویٹا میگنیٹکس نامی ایک چلیئن میڈیکل اسٹارٹ اپ کمپنی نے تیار کی ہے، جسے 2023 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظوری ملی، تاکہ اسے پیٹ کی سرجریوں میں استعمال کیا جا سکے، تاہم جون میں اس کا دائرہ کار بڑھا کر بیریاٹرک اور ہرنیا سرجریز تک پھیلا دیا گیا، جو سب سے عام آپریشنز میں شمار ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔