سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کے اسکواڈ کی گاڑی کو حادثہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
لاہور میں کالا شاہ کاکو کے قریب سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک کا اسکواڈ حادثے کا شکار ہوگیا اور ایلیٹ فورس کی گاڑی اُلٹنے سے 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
اتوار کو جسٹس عائشہ اے ملک اسلام آباد سے لاہور آرہی تھیں کہ کالا شاہ کاکو کے قریب ان کے اسکواڈ کو حادثہ پیش آگیا، جہاں تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور گاڑی کا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اسکواڈ کی گاڑی ٹائر برسٹ ہونے کے باعث الٹ گئی۔
پولیس کے مطابق ایلیٹ فورس کی گاڑی الٹنے سے 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، جن میں سے 3 زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں عمر، عبداللہ اور مبشر شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ٹریفک حادثے میں جسٹس عائشہ اے ملک محفوظ رہیں جب کہ سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کو سیکیورٹی کے ہمراہ بھجوادیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جسٹس عائشہ اے ملک کی گاڑی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔