عالمی برادری دہرا معیار ترک کرکے اسرائیل کو اس کے جرائم پر سزا دے، قطری وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہرا معیار ترک کرے اور اسرائیل کو اس کے جرائم پر سزا دے۔
دوحہ میں عرب اسلامی رہنماؤں کے ہنگامی اجلاس سے قبل ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے عالمی برادری دہرے معیار کو ترک کرے اور اسرائیل کو اس کے تمام جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے قطر پر حملے پر عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شرکت
انہوں نے کہاکہ اسرائیل کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارے برادر فلسطینی عوام کی نسل کشی کرکے انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔
دوحہ میں اتوار کے روز قطری وزیراعظم کی زیر صدارت وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں عرب و اسلامی رہنماؤں کے مشترکہ ہنگامی اجلاس کے لیے مسودہ اعلامیہ پر غور کیا گیا۔
اس اجلاس میں 9 ستمبر کو قطر میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے پر بات کی جا رہی ہے جس نے دوحہ میں مقیم کئی حماس رہنماؤں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا۔
ان فضائی حملوں میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جس کی عرب اور اسلامی دنیا نے شدید مذمت کی، اور اسے قطر کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔
اس اجلاس میں عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں، جن میں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل بمقابلہ قطر: کیا خطہ بڑے تنازعے کی طرف بڑھ رہا ہے؟
سعودی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حملے کو جارحانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری اسرائیل کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیلی حملہ عرب اسلامی اجلاس قطری وزیراعظم وزرائے خارجہ اجلاس وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملہ عرب اسلامی اجلاس وزرائے خارجہ اجلاس وی نیوز اسرائیل کو اس کے عالمی برادری
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی