نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اتوار کو دوحہ پہنچ گئے جہاں وہ عرب اور مسلم رہنماؤں کے ہنگامی سربراہی اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

اسرائیل نے منگل کو دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں حماس کے 5 ارکان اور ایک قطری سکیورٹی افسر جاں بحق ہوئے۔ اس حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی، حتیٰ کہ امریکہ کے قریبی خلیجی اتحادی بھی اسرائیل کے اقدام پر تنقید کرتے دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر میں عرب-اسلامی وزرائے خارجہ اجلاس آج، اسرائیلی جارحیت پر مشترکہ حکمتِ عملی تیار ہوگی

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ دوحہ پہنچنے پر انہیں پاکستان کے سفیر محمد عامر، او آئی سی میں پاکستان کے نمائندے اور قطری حکومت کے اعلیٰ حکام نے خوش آمدید کہا۔

عرب اسلامی سربراہی اجلاس، جو او آئی سی کے پلیٹ فارم پر منعقد ہورہا ہے، میں مسلم دنیا کے سربراہان مملکت اور حکومتیں شریک ہوں گی۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچیں گے۔ اجلاس پاکستان کی شراکت میں بلایا گیا ہے تاکہ قطر پر اسرائیلی حملے اور فلسطین میں جاری بگڑتی صورتحال پر مشترکہ مؤقف اپنایا جا سکے۔

سفارتکاروں کے مطابق 50 سے زائد رکن ممالک اجلاس میں شریک ہوں گے جہاں ممکنہ طور پر فلسطین کی ریاستی حیثیت کے معاملے پر آئندہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں پیشرفت پر بھی غور کیا جائے گا۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی شرکت کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔

اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب سے ملاقات

اسحاق ڈار نے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی حملوں کو غیر قانونی اور مسلم ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور فلسطینیوں کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

On the sidelines of the preparatory Foreign Ministers’ meeting for the Emergency #ArabIslamicSummit in Doha, Deputy Prime Minister / Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 met today with his Egyptian counterpart, Foreign Minister Dr.

Badr Abdelatty. @MfaEgypt… pic.twitter.com/g2MKWN7Eea

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 14, 2025

دفتر خارجہ کے ترجمان شفقات علی خان نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے بار بار خطے کی خودمختار ریاستوں پر حملے صرف مسلم دنیا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی تشویشناک ہیں۔

اسرائیلی حملے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایک روزہ دورہ دوحہ کیا اور امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی سے ملاقات میں اظہار یکجہتی کیا۔

قطر اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور وہاں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر پر اسرائیلی حملہ: پاکستان، سعودی عرب اور ایران کی شدید مذمت

اس حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پہلی بار امریکا سمیت تمام 15 ارکان نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی۔ ماضی میں امریکا اکثر اسرائیل کے حق میں قراردادوں کو ویٹو کرتا رہا ہے لیکن اس بار اس نے مخالفت نہیں کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ وہ اسرائیلی حملے پر سخت ناخوش ہیں۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وضاحت کی کہ اس واقعے سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسحاق ڈار اسرائیل او آئی سی پاکستان دوحہ قطر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار اسرائیل او ا ئی سی پاکستان

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس