کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کےلئے بجلی مہنگی کرنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بری خبر ہے، ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی19 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں دائر کی گئی ہے۔ سی پی پی اے نے اگست 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست جمع کرائی ہے، نیپرا کا بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر 29 ستمبر کو سماعت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق حکومتی پالیسی گائیڈلائنز کے مطابق ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کےالیکڑک صارفین پر بھی ہوگا، اکتوبرکے بلوں میں اگست کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کیے جانےکا امکان ہے۔
واضح رہے کہ نیپرا نےگزشتہ ہفتےکے الیکٹرک کےلیے جون اور جولائی کی ماہانہ ایڈ جسٹمنٹس کا نوٹیفکیشن کیا تھا ۔اس وقت کے الیکٹرک صارفین کو2 ماہانہ ایڈجسٹمنٹس میں 2 روپے57 پیسےکمی کاریلیف مل رہا ہے، باقی صارفین کےلیےجولائی کی ایڈ جسٹمنٹ میں ایک روپے 79 پیسےکی کمی کی گئی تھی۔
ڈسکوزصارفین کوجولائی کی ایڈجسٹمنٹ کاریلیف رواں ماہ کےبلوں میں مل رہاہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ماہانہ ایڈجسٹمنٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔