اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ریکو ڈک منصوبے کے معاہدوں کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعرات کو وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں ہوا، جس میں ریکو ڈک منصوبے سے متعلق اہم معاہدوں اور مالی وعدوں کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا اور ریکوڈک منصوبے کی فنانسنگ کے لیے معاہدوں کی حتمی شرائط کی منظوری دے دی۔
فیصلہ کیا گیا کہ اگر معاہدوں کی حتمی شکل میں کوئی بڑی تبدیلی ضروری ہوئی تو ریکوڈک مائننگ کمپنی کے قانونی اور مالیاتی مشیروں کی تصدیق کے بعد معاملہ دوبارہ ای سی سی کے سامنے لایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ریکو ڈک منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی 410 ملین ڈالر کی فنڈنگ
اجلاس میں وزارت ریلوے کی جانب سے ریکو ڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ 390 ملین ڈالر مالیت کے برج فنانسنگ معاہدے اور ریلوے ڈویلپمنٹ معاہدے کی سمری پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے تحت بلوچستان کی کانوں سے برآمدی مواد کی بڑی مقدار منتقل کرنے کے لیے 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا۔
ای سی سی نے تجویز منظور کرتے ہوئے وزارت ریلوے کو ہدایت کی کہ معاہدوں کے مسودے فنانس ڈویژن کو جانچ کے لیے بھیجے جائیں اور آئندہ برس مارچ تک عملدرآمد پر رپورٹ پیش کی جائے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ ریکو ڈک منصوبے کی منظوری حکومت کے پختہ عزم کی عکاس ہے۔ یہ منصوبہ بلوچستان کے معاشی منظرنامے کو بدلنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، انفراسٹرکچر کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا اور خطے کی سماجی و اقتصادی بہتری کو فروغ دے گا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ریکو ڈک مائننگ کمپنی نے اہم پروگرام شروع کردیا
انہوں نے کہا کہ ریکو ڈک منصوبہ نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ کاپر اور سونے کے ذخائر کو بروئے کار لائے گا بلکہ طویل المدتی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقتصادی رابطہ کمیٹی ریکو ڈک سینیٹر محمد اورنگزیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقتصادی رابطہ کمیٹی ریکو ڈک سینیٹر محمد اورنگزیب ریکو ڈک منصوبے کی منظوری کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :