ایم ڈی کیٹ امتحان اب ڈومیسائل کی بنیاد پر ہوگا، پی ایم ڈی سی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایم ڈی کیٹ (Medical and Dental College Admission Test) کو ڈومیسائل کی بنیاد پر منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب ہر طالب علم اپنے ڈومیسائل کے مطابق متعلقہ صوبے میں ہی امتحان دے سکے گا اور کسی دوسرے صوبے میں امتحان دینے کی اجازت نہیں ہوگی، پی ایم ڈی سی کے اس فیصلے کا مقصد امتحانی عمل کو شفاف اور منظم بنانا ہے تاکہ ہر صوبے کے طلبہ کو یکساں مواقع میسر آئیں۔
فیصلے کے تحت چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے مخصوص یونیورسٹیز کو منظوری دی گئی ہے، جن میں آئی بی سکھر (سندھ)،
بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ (بلوچستان)، ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی، اسلام آبادشامل ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کے امیدواروں کے لیے اسلام آباد میں ایک ایک سینٹر قائم کیا جائے گا جہاں وہ امتحان دے سکیں گے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے امیدوار اپنی اپنی یونیورسٹیوں کے سینٹرز پر امتحان دینے کے پابند ہوں گے، ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے سینٹرز پر آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے امیدوار بھی امتحان دے سکیں گے، تاہم ان کے لیے مختص کوٹہ نشستوں کے مطابق داخلے دیے جائیں گے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے متعلقہ صوبے کا ڈومیسائل لازمی قرار دیا گیا ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے امیدواروں کے لیے بھی ملک کے مختلف کالجز میں نشستیں مخصوص کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے طلبہ کو بھی مساوی تعلیمی مواقع فراہم ہوں۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ایم ڈی کیٹ کا شیڈول بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ پہلے یہ امتحان 5 اکتوبر 2025 کو ہونا تھا، تاہم اب نئی تاریخ کے مطابق یہ ٹیسٹ 26 اکتوبر 2025 (بروز اتوار) کو منعقد ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی اسلام آباد کالجز میں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :