’آپ سے پاسپورٹ کے لیے شادی کرنا چاہتا ہوں‘، بھارتی شخص کی لڑکی سے دلچسپ گفتگو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بھارتی شہری کو جرمن خاتون سے شادی کی پیشکش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں شہری نے واضح طور پر بتایا کہ اس کا مقصد جرمن شہریت حاصل کرنا، اپنے اہل خانہ کے لیے شینگن ویزے کی اسپانسرشپ کرنا اور برلن میں رہائش کا بندوبست کرنا ہے۔
ویڈیو میں اس شخص نے 2025 کے دور میں صنفی مساوات اور بھارت میں رائج شادی کے رواج کی بھی وضاحت کی ہے کہ ہم گرل فرینڈ بنانے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ ارینج میرج بھی کرتے ہیں اور میرے پاس برلن میں کوئی اپارٹمنٹ نہیں ہے بلکہ وہ آپ مجھے دیں گی کیونکہ یہ 2025 ہے اور مرد اور عورتیں برابر ہیں۔
Lmfao what did I just watch.
— Darth Powell (@VladTheInflator) September 18, 2025
اس ویڈیو کو اب تک ہزاروں لوگ دیکھ چکے ہیں اور صارفین کے ردعمل مختلف نوعیت کے ہیں۔ کچھ لوگ اس شخص کی سادگی اور بے باکی پر دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں جبکہ دیگر اسے امیگریشن قوانین کے غلط استعمال کے طور پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ملک میں ایسے پسماندہ لوگوں کو کیوں مدعو کرتے ہیں؟
Why do we invite these backwards people in our nations? https://t.co/0S6izj6WW5
— E (@ElijahSchaffer) September 18, 2025
ایک ایکس صارف نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اس بھارتی شخص نے دیانت داری کا نیا معیار قائم کر دیا ہے۔
Talk about taking HONESTY to a while new level???? https://t.co/Iy2UghtlZQ
— Hauwa M.B???? (@31Sisters6) September 19, 2025
کئی صارفین نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ نہیں ہو سکتا۔
This can’t be real https://t.co/XnWe8fiIo0
— Keeeeesh (@Keeeeesh33764) September 19, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برلن جرمن خاتون سے شادی جرمن شہریت شینگن ویزا صنفی مساوات ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جرمن خاتون سے شادی جرمن شہریت شینگن ویزا صنفی مساوات ویڈیو وائرل
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔