سلامتی کونسل: کیا ایران پر آج دوبارہ پابندی لگا دی جائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 ستمبر 2025ء) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی طرف ایک اور قدم اٹھا سکتی ہے۔ اس حوالے سے جمعہ کے روز نیویارک میں ووٹنگ شیڈول ہے۔ کونسل میں یہ ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ہو گی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسودہ قرارداد کو موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے کے لیے درکار نو ووٹ نہیں ملیں گے، جس کے تحت پابندیاں معطل رہتیں، اور اس طرح ایران پر دوبارہ سزائیں (پابندیاں) عائد کر دی جائیں گی۔
روس اور چین، جو پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہیں، کو 15 رکنی کونسل میں نو ووٹ درکار ہوں گے، جو سفارتی ذرائع کے مطابق تقریباً ناممکن ہے۔
(جاری ہے)
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے جمعرات کو ایک اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ایران پر بین الاقوامی پابندیاں بحال ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا، ’’ایران کی طرف سے ملنے والی تازہ ترین معلومات سنجیدہ نہیں ہیں۔‘‘ پابندیاں کیوں بحال کی جارہی ہیں؟برطانیہ، فرانس اور جرمنی، جو جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن کے فریق ہیں جس کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، کا الزام ہے کہ ایران نے 2015 کے اس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے توڑ دیے ہیں۔
’یورپی تین‘ یا ’ای تھری‘ کے نام سے معروف برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اگست کے وسط میں اقوام متحدہ کو ارسال کردہ ایک خط میں الزام لگایا کہ ایران نے جوہری معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں یورینیم کا ذخیرہ مقررہ سطح سے 40 گنا زیادہ بڑھانا بھی شامل ہے۔
اس معاملے پر یورپی طاقتوں اور ایران کے درمیان سفارتی بات چیت کے باوجود مغربی اتحاد کا اصرار ہے کہ کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تجزیہ کار رچرڈ گوان کے مطابق، ’’الجزائر اور پاکستان ممکنہ طور پر روس اور چین کی حمایت کریں گے، لیکن میرا خیال ہے کہ دیگر اراکین مخالفت یا غیر حاضری اختیار کریں گے، لہٰذا یورپی ممالک اور امریکہ کو ویٹو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ایران اور یورپی ممالک آخری وقت پر کوئی سمجھوتہ کر لیں تو کونسل کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ ایک اور قرارداد منظور کرے جس کے ذریعے پابندیوں کی معطلی میں توسیع ہو سکتی ہے۔
‘‘دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے ’’ایک معقول اور عملی منصوبہ‘‘ یورپی تین اور یورپی یونین کے ہم منصبوں کے سامنے رکھا ہے تاکہ ’’آنے والے دنوں میں غیر ضروری اور قابلِ اجتناب بحران‘‘ سے بچا جا سکے۔
عراقچی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ یہ تجویز ’’حقیقی خدشات کو دور کرتی ہے‘‘ اور اسے باہمی طور پر فائدہ مند قرار دیا، تاہم اس کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
آخری لمحے کی کوشش؟سن دو ہزار پندرہ کا مشکل سے طے پایا جوہری معاہدہ اس وقت سے غیر مؤثر ہو چکا ہے جب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اسے یک طرفہ طور پر خیرباد کہہ کر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔
مغربی طاقتیں اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران اس کی تردید کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے معاہدے سے الگ ہونے کے بعد ایران نے بتدریج اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کیا اور جوہری سرگرمیاں تیز کر دیں، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جون میں 12 روزہ لڑائی کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اس لڑائی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو بھی پٹڑی سے اتار دیا اور ایران نے عالمی جوہری ادارے، آئی اے ای اے، کے ساتھ تعاون معطل کر دیا۔ ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے اس ادارے کے معائنہ کار جنگ کے بعد ایران سے واپس لوٹ آئے۔
اس دورن ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر پابندیوں کا خودکار نظام (اسنیپ بیک) فعال ہوا تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایران پر ایران نے کے مطابق کرنے کی اور اس
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔