ایشیا کپ کے دوران سری لنکن کھلاڑی دنیتھ ویلالاگے کے والد انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2025 میں شریک سری لنکن کرکٹر دنیتھ ویلالاگے کے والد گزشتہ روز انتقال کر گئے۔
سری لنکن میڈیا کے مطابق کرکٹر دنیتھ ویلالاگے کے والد، سورنگا نیروشن ویلالاگے، افغانستان کے خلاف ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔
متحدہ عرب امارات میں جاری ایونٹ کے دوران یہ افسوسناک خبر انہیں افغانستان کے خلاف میچ کے اختتام پر کوچ سنتھ جے سوریا اور ٹیم مینجر نے دی، جس کے بعد وہ ہنگامی طور پر وطن واپس روانہ ہوگئے۔ ٹیم مینجمنٹ اور ساتھی کھلاڑیوں نے اس مشکل گھڑی میں ویلالاگے سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
میچ کے دوران ویلالاگے نے چار اوورز میں 49 رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی تھی، تاہم اپنے آخری اوور میں افغان آل راؤنڈر محمد نبی نے انہیں لگاتار پانچ چھکے جڑ دیے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹر دنیتھ ویلالاگے کی ایشیا کپ کے بقیہ میچز میں شرکت غیر یقینی ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی 2025 کے 11ویں اور گروپ بی کے آخری میچ میں سری لنکا نے افغانستان کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر سپر فور مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔