میرے ڈمپل کی شہرت ہانیہ عامر سے زیادہ ہے، فیصل رحمان
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار فیصل رحمان نے حالیہ پوڈکاسٹ میں دلچسپ انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ڈمپل کی شہرت ہانیہ عامر سے بھی زیادہ ہے۔ فیصل رحمان کا کہنا تھا کہ ہانیہ عامر ابھی انڈسٹری میں نئی ہیں، جبکہ وہ کئی دہائیوں سے شوبز کا حصہ ہیں، اس لیے ان کے ڈمپل کی پہچان زیادہ پرانی اور مضبوط ہے۔ پوڈکاسٹ کے دوران فیصل رحمان نے اپنے ڈمپل کے حوالے سے مزاحیہ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دونوں گالوں پر ڈمپل ہیں جن میں سے ایک زیادہ نمایاں ہے، جبکہ دوسرا اس وقت ابھرتا ہے جب وہ اپنا وزن بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ان کے ڈمپلز کی وجہ سے بڑی عمر کی خواتین بھی ان کی مداح ہیں، اور یہ ان کے لیے ایک دلچسپ تجربہ ہے۔گفتگو کے دوران انہوں نے اپنے بچپن کے خوابوں کا بھی ذکر کیا۔ فیصل رحمان نے بتایا کہ ان کے تایا بھارت میں رہائش پذیر تھے اور وہ چاہتے تھے کہ بچپن میں ان کے تایا انہیں گود لے لیں تاکہ وہ بالی ووڈ میں کام کر سکیں، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ جوانی میں کئی مرتبہ بھارت جا کر فلموں کے آڈیشن دیتے رہے مگر کامیابی حاصل نہ کر پائے۔شادی نہ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر فیصل رحمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ شوبز میں کئی فنکار ایسے ہیں جنہوں نے شادی نہیں کی لیکن یہ سوال ہمیشہ انہی سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ عشق نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی آزادی کو ترجیح دینے کے باعث کیا۔ فیصل رحمان کے مطابق وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے قائل ہیں اور اس بات پر شکر ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ انتخاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیصل رحمان نے انہوں نے کہ ان کے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔