اعلی سطحی چینی وفد کا پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کا دورہ، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داری ناگزیر ہے،رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اعلی سطحی چینی وفد کا پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کا دورہ، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داری ناگزیر ہے،رانا تنویر حسین WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز ) چین کی وزارت زراعت و دیہی امور ، اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ایک اعلی سطحی چھ رکنی وفد نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ، اسلام آباد کا دورہ کیا۔ یہ دورہ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کو مضبوط بنانے کی لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس کا مقصد غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں چئیرمین پی اے آرسی ڈاکٹر سید مرتضی حسن اندرابی نے چینی وفد کا پرتپاک استقبال کیا، اور پی اے آرسی کی قومی تحقیقی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر اندرابی نے جینومکس، بائیوٹیکنالوجی، لائیو سٹاک کی بہتری، پلانٹ سائنسز، زرعی انجینئرنگ، قدرتی وسائل کے انتظام، اور ویلیو چین ڈویلپمنٹ سمیت متعدد سائنسی شعبوں میں جدید اقدامات پر روشنی ڈالی۔
چینی وفد سے ملاقات میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے وفد کا خیرمقدم کیا اور چین کے ساتھ زرعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنس پر مبنی حل کی ضرورت ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارا تعاون تکنیکی ترقی اور پائیدار زرعی طریقوں کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گا۔ وفاقی وزیر نے این اے آر سی میں چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز کی طرز پر سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان کی تحقیقی صلاحیت اور دیہی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ رانا تنویر حسین نے پاکستان کے زرعی شعبے کی مسلسل حمایت پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
چینی وفد سے ملاقات کے دوران وفاقی سیکرٹری برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، امیر امیر محی الدین نے پاکستان میں زراعت کے مستقبل کی تشکیل میں جدت اور بین الاقوامی تعاون کے اہم کردار پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی، اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی جیسے مسائل کے حل کے لیے جدت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعاون خاص طور پر چین کے ساتھ شراکت داری پاکستان کی زراعت کو جدید بنانے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اس موقع پر چیئرمین پی اے آرسی نے زراعت میں جدت اور بہتری کے لیے چین کی مہارت سے استفادہ کرنے میں پاکستان کی گہری دلچسپی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کے باوجود، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل تحقیق اور اختراع کے ذریعے قومی معیشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر اندرابی نے این اے آرسی میں چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کی طرز پر سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کی تجویز پیش کی، جس میں فوڈ سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجیز، اور پائیدار زرعی ترقی کے لیے اعلی اثرات کی تحقیق پر توجہ دی جا سکتی ہے۔
چینی وفد کے سربراہ ایشیائی اور افریقی امور کے کنسلٹنٹ مسٹر ین ین نے زرعی شعبے میں تعاون کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دیرینہ دوستی اور زرعی تعاون کی تاریخی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی زرعی ترقی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس شراکت داری کو مضبوط بنانا دونوں ممالک میں خوراک اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہوگا۔ انہوں نے زراعت کے شعبے میں جدت اور بہتری کے لیے پی اے آرسی کی کوششوں کو بھی سراہا اور روایتی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
چینی وفد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار طرز عمل مشترکہ مستقبل کی بنیاد بنائیں گے۔ توقع ہے کہ این اے آرسی میں مجوزہ سینٹر آف ایکسی لینس اس تعاون کے تحت ایک فلیگ شپ پروجیکٹ کے طور پر کام کرے گا، جس میں چین پاکستان زرعی دوستی کو خطے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دکھایا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقوام متحدہ آخری امید ،اس کاقائم رہنا ناگزیر ہو گیا ہے ، نائب صدر متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ آخری امید ،اس کاقائم رہنا ناگزیر ہو گیا ہے ، نائب صدر متحدہ عرب امارات حالات کی رفتار بتارہی ہے پی ٹی آئی پارلیمنٹ اورکچھ جج عدلیہ سے مستعفی ہوجائیں گے، عرفان صدیقی متاثرین کیلئے مزید خیموں اورچیزوں کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں: قائم مقام صدر سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پایا، اس میں کئی ماہ لگے، اسحق ڈار لیڈر بڑی مشکلوں سے بنتے ہیں، پھانسیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے: کیپٹن (ر) صفدر افغانستان: طالبان حکومت نے جامعات میں 680 کتابوں پر پابندی عائد کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل رانا تنویر حسین غذائی تحفظ کو بنانے کے لیے اور پائیدار چینی وفد کا پاکستان کی شراکت داری پی اے آرسی انہوں نے کو یقینی کو مضبوط کا دورہ کہا کہ
پڑھیں:
مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے،غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں،کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کیا جس نے بدھ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 27-2026کے بجٹ کے حوالےسے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی۔(جاری ہے)
وفد میں میاں محمد منشا ، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بش، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر ، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم ،خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں ۔ انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے ،غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں ، بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کےلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں ،کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہے جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں ، صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ،نوجوانوں کےلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ ان کو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹانےکےلئے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں، ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہ کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں ،سپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالےسےکمیٹی تشکیل دی گئی ہے ،کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے ،موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا ،پاکستان ریلوے کی ایم۔ایل ون اور ایم ایل- ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل بہتر ہو گی۔ بریفنگ کے مطابق نیشنل اےآئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے ،شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کے حوالے سے ان صنعتوں میں وڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب سے ریونیو کی مد میں بہتری آئی ۔وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہارکیا۔وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کےلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔وفد کے ارکان نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہوئے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔کاروباری رہنمائوں نے صنعتوں کےلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا اور آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا ۔ انہوں نے وزیراعظم کوقومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔وفد کے شرکا نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔\932