بھارت کیلئے فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2025ء) بھارت کیلئے فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کر دی گئی، سول ایوی ایشن نے بھارت کے لیے فضائی حدود میں بندش سے متعلق نوٹم جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں 24 اکتوبر تک توسیع کردی ہے۔ سول ایوی ایشن نے بھارت کے لیے فضائی حدود میں بندش سے متعلق نوٹم جاری کردیا اور کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے بدستور دستیاب نہیں ہوگی۔
ایوی ایشن نے کہا ہے کہ یہ پابندی ان تمام جہازوں پر لاگو ہے جو بھارتی ائیرلائنز یا آپریٹرز کی ملکیت ہیں اور ان کے زیر آپریشن ہیں یا ان سے لیز پر حاصل کیے گئے ہیں۔ نوٹم میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی میں فوجی پروازیں بھی شامل ہیں۔(جاری ہے)
سول ایوی ایشن کے مطابق اس پابندی کا نفاذ 19 ستمبر 2025 کو دوپہر ایک بجے سے ہوگا اور اختتام 24 اکتوبر 2025 کو صبح 4:59 بجے پر ہوگا۔
سول ایوی ایشن نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندی زمین سے لے کر غیر محدود اونچائی تک مؤثر ہوگی۔ دوسری جانب بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کرنے کے دعووں کے باوجود پاکستان کی جانب سے بھارت سے کروڑوں ڈالرز کی اشیاء خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حکومت کی جانب سے ہر قسم کی تجارت پر پابندی کے باوجود بھارت سے درآمدات کے سرکاری اعدادوشمار سامنے آگئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اگست 2025 میں بھارت سے پاکستان کی درآمدات کا حجم 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہا، جو گزشتہ سال اگست 2024 کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہے۔ اگست 2024 میں بھارت سے پاکستانی درآمدات 2 کروڑ 33 لاکھ ڈالرز تھیں۔اعدادوشمار کے مطابق موجودہ حکومت کے ڈیڑھ سال کے دوران بھارت سے سالانہ بنیاد پر درآمدات میں 7 مرتبہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ مارچ، اگست اور ستمبر 2024 میں جبکہ اکتوبر 2024، فروری اور مارچ 2025 میں بھی سالانہ بنیادوں پر بھارت سے درآمدات میں اضافہ ہوا تھا۔حکام کے مطابق پاکستان نے مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل کیے جانے کے بعد بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت پر مکمل پابندی لگائی تھی۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف براہِ راست بلکہ تیسرے ممالک کے ذریعے بھارتی مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی گئی۔یاد رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل اگست 2019 میں بھی بھارت کے ساتھ تجارت معطل کر دی تھی، تاہم بعد ازاں حالات میں نرمی کے بعد جزوی طور پر تجارت بحال کی گئی تھی۔ اس دوران پاکستان نے صرف زندگی بچانے والی ادویات کی درآمد کی اجازت دی تھی۔ تاہم اب سامنے آنے والے تازہ ترین اعدادوشمار نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سول ایوی ایشن ایوی ایشن نے پاکستان نے بھارت کے کے مطابق بھارت سے درا مدات کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :