ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والے لاکھوں افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ یہ ڈیٹا اب ایف بی آر کے ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک لاکھ امیر افراد کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان کے اخراجات اور ذرائع آمدن کا جائزہ لیا جا سکے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ خاص طور پر شادیوں پر بے تحاشہ اخراجات کرنے والے نان فائلرز اب ایف بی آر کے ریڈار پر ہیں۔ ایسے افراد جو شادیوں میں بیس، بیس ہزار ڈالر کے مہنگے سوٹ پہنتے ہیں، وہ بھی اس کارروائی کی زد میں آئیں گے۔ نہ صرف یہ، بلکہ بنگلوں، قیمتی گاڑیوں اور زیورات کی نمائش کرنے والوں سے بھی ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں وضاحت طلب کی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق، ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ گزشتہ سال جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں کا اس سال کے گوشواروں کے ساتھ تفصیلی موازنہ کیا جائے گا۔ اس عمل کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ دولت کی نمائش کرنے والے افراد نے اپنے اصل اثاثے ظاہر کیے ہیں یا نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی آسائشوں اور طرزِ زندگی کی نمائش کرنے والے صارفین کو اب احتیاط برتنی ہوگی، کیونکہ ایف بی آر ان کی ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ کارروائی ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک بڑے اقدام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کی نمائش کرنے کرنے والے ایف بی آر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ