سوشل میڈیا پر دولت کی نمود و نمائش کرنے والے امیروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ایف بی آر نے کم ٹیکس دینے والے اور ٹیکس نیٹ سے باہر سوشل میڈیا پر دولت کی نمود و نمائش کرنے والے امیر لوگوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر سوشل میڈیا ٹیم نے شاہانہ لائف اسٹائل رکھنے والے ایک لاکھ امیر افراد کا ڈیٹا جمع کر لیا، بڑے بڑے بنگلوں، چمچماتی گاڑیوں، زیورات کی نمائش کرنے والوں کی آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق شادیوں پر شاہانہ اخراجات کرنے والے بھی زد میں آئیں گے، شادیوں پر بیس، بیس ہزار ڈالرمالیت کے سوٹ استعمال کیئے جارہے ہیں، انکم ٹیکس گوشواروں میں شاہانہ لائف اسٹائل ظاہر نہ کرنے والے پکڑمیں آئیں گے۔
ایف بی آر نے کہا کہ گزشتہ سال جمع کرائے گئے گوشواروں کا اس سال سے موازنہ کرے گا، مجموعی گوشواروں میں سے 80 فیصد کا آڈٹ کیا جائےگا، دولت کی نمائش کرنے والوں کو ٹیکس ریٹرن کے ذریعے ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق گوشواروں میں سالانہ آمدن کا اضافہ ظاہرنہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، ایسے لوگ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے ٹیکس ریٹرن اپ ڈیٹ کر لیں۔
ایف بی آر نے انتباہ کیا کہ انکم ٹیکس گوشواروں میں اپ ڈیٹڈ معلومات دینے والوں کو فی الحال کچھ نہیں کہا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گوشواروں میں کرنے والے ایف بی آر
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں